آل عمران

آل عمران

200 آیاتمدنیپارہ 3

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 115

    وَمَا يَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُتَّقِينَ

    یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں ان کی ناقدری نہ کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی سارے اہل کتاب ایسے نہیں جن کی مذمت پچھلی آیات میں بیان کی گئی ہے، بلکہ ان میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں، جیسےعبد الله بن سلام، أسد بن عبيد، ثَعلبة بن سعيةاورأسيد بن سعيةوغیرہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے شرف اسلام سے نوازا اور ان میں اہل ایمان وتقویٰ والی خوبیاں پائی جاتی ہیں رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ- قَائِمَةٌکے معنی ہیں، شریعت کی اطاعت اور نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کا اتباع کرنے والی يَسْجُدُونَ کا مطلب، رات کو قیام کرتے یعنی تہجد پڑھتے اور نمازوں میں تلاوت کرتے۔ اس مقام پر امر بالمعروف۔۔۔۔۔۔ کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان لانے کا حکم دیتے اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت کرنے سے روکتے ہیں۔ اسی گروہ کا ذکر آگے بھی کیا گیا ہے۔«وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ» (آل عمران: 199)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 115 کی تفسیر

    [115] ﴿ وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ﴾ ’’اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں‘‘ تھوڑی ہوں یا زیادہ ﴿ فَلَ٘نْ یُّكْ٘فَرُوْهُ ﴾’’ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی‘‘ انھیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دارومدارعمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان و تقویٰ پر ہوتا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے‘‘ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ہے: ﴿ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ﴾ (المائدۃ:5؍27) ’’اللہ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول کرتا ہے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 115 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنساءالنساء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید