آل عمران

آل عمران

200 آیاتمدنیپارہ 3

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 139

    وَلَا تَهِنُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَنتُمُ ٱلْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

    تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو.[1]

    حواشی

    [1] گزشتہ جنگ میں تمہیں جو نقصان پہنچا ہے، اس سے نہ سست ہو اور نہ اس پر غم کھاؤ کیونکہ تمہارے اندر ایمانی قوت موجود رہی تو غالب وکامران تم ہی رہو گے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی قوت کا اصل راز اور ان کی کامیابی کی بنیاد واضح کر دی ہے۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ اس کے بعد مسلمان ہر معرکے میں سرخرو ہی رہے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 139 کی تفسیر

    [139] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لیے فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا ﴾ یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلا پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمھارے لیے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لیے سخت جان ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت اور اس کے ثواب کے امیدوار ہیں، اس لیے کمزوری اور حزن و غم کا مظاہرہ ان کے شایان شان نہیں۔ اس قسم کے رویے کا اظہار اس مومن کے لائق نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق دنیاوی اور اخروی ثواب کا طلب گار ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 139 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنساءالنساء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید