آل عمران

آل عمران

200 آیاتمدنیپارہ 3

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 152

    وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعْدَهُۥٓ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَـٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ

    اللہ تعالیٰ نے تم سے اپنا وعده سچا کر دکھایا جبکہ تم اس کے حکم سے انہیں کاٹ رہے تھے[1] ۔ یہاں تک کہ جب تم نے پست ہمتی اختیار کی اور کام میں جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی[2]، اس کے بعد کہ اس نے تمہاری چاہت کی چیز تمہیں دکھا دی[3]، تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے[4] اور بعض کا اراده آخرت کا تھا[5] تو پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تم کو آزمائے[6] اور یقیناً اس نے تمہاری لغزش سے درگزر فرما دیا اور ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے.[7]

    حواشی

    [1] اس وعدے سے بعض مفسرین نے تین ہزار اور ہزار فرشتوں کا نزول مراد لیا ہے لیکن یہ رائے سرے سے صحیح نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ فرشتوں کا یہ نزول صرف جنگ بدر کے ساتھ مخصوص تھا۔ باقی رہا وہ وعدہ جو اس آیت میں مذکورہے تو اس سے مراد فتح ونصرت کا وہ عام وعدہ ہے جو اہل اسلام کے لئے اور اس کے رسول کی طرف سے بہت پہلے سے کیا جا چکا تھا۔ حتیٰ کہ بعض آیتیں مکہ میں نازل ہو چکی تھیں۔ اور اس کے مطابق ابتدائے جنگ میں مسلمان غالب وفاتح رہے جس کی طرف «إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ» سے اشارہ کیا گیا ہے۔ [2] اس تنازع اور عصیان سے مراد تیر اندازوں کاوہ اختلاف ہے جو فتح وغلبہ دیکھ کر ان کے اندر واقع ہوا اور جس کی وجہ سے کافروں کو پلٹ کر دوبارہ حملہ آور ہونے کا موقع ملا۔ [3] اس سے مراد وہ فتح ہے جو ابتدا میں مسلمانوں کو حاصل ہوئی۔ [4] یعنی مال غنیمت، جس کے لئے انہوں نے وہ پہاڑی چھوڑ دی جس کے نہ چھوڑنے کی انہیں تاکید کی گئی تھی۔ [5] وہ لوگ ہیں جنہوں نے مورچہ چھوڑنے سے منع کیا اور نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے فرمان کے مطابق اسی جگہ ڈٹے رہنے کا عزم ظاہر کیا۔ [6] یعنی غلبہ عطا کرنے کے بعد پھر تمہیں شکست دے کر ان کافروں سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے۔ [7] اس میں صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کے اس شرف وفعل کا اظہار ہے جو ان کی کوتاہیوں کے باوجود اللہ نے ان پر فرمایا۔ یعنی ان کی غلطیوں کی وضاحت کرکے آئندہ اس کا اعادہ نہ کریں، اللہ نے ان کے لئے معافی کا اعلان کر دیا تاکہ کوئی بد باطن ان پر زبان طعن دراز نہ کرے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہی قرآن کریم میں ان کے لئے عفو عام کا اعلان فرما دیا تو اب کسی کے لئے طعن وتشنیع کی گنجائش کہاں رہ گئی؟ صحیح بخاری میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک حج کے موقعے پر ایک شخص نے حضرت عثمان (رضي الله عنه) پر بعض اعتراضات کئے کہ وہ جنگ بدر میں، بیعت رضوان میں شریک نہیں ہوئے، نیز یوم احد میں فرار ہوگئے تھے۔ حضرت ابن عمر (رضي الله عنه) نے فرمایا کہ جنگ بدر میں تو ان کی اہلیہ (بنت رسول ج) بیمار تھیں، بیعت رضوان کے موقع پر آپ رسول (صلى الله عليه وسلم) کے سفیر بن کر مکہ گئے ہوئے تھے اور یوم احد کے فرار کو اللہ نے معاف فرما دیا ہے۔ (ملخصا۔ صحیح بخاری، غزوۂ احد)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 152 کی تفسیر

    [152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اپنی نصرت کا وعدہ پورا کر دیا، پس تمھیں کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا کی حتی کہ تمھیں ان کی گردنوں پر اختیار دے دیا تھا اور تم نے ان کی گردنیں مارنا شروع کر دیں یہاں تک کہ تم خود اپنے لیے ہزیمت کا سبب بن گئے اور تم خود اپنے مقابلے میں دشمن کی اعانت کا باعث بن گئے۔ پس جب تم بزدلی، کمزوری اور سستی کا شکار ہو گئے ﴿وَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ﴾ اور تم نے جھگڑے میں پڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو چھوڑ دیا جو اتحاد اور عدم اختلاف کے بارے میں تھا۔ پس تم اختلافات میں پڑ گئے۔ کوئی کہتا تھا کہ ہم تو اسی مقام پر ڈٹے رہیں گے جہاں رسول اللہeنے ہمیں متعین فرمایا ہے اور کسی نے کہا، اب ہمارے یہاں ٹھہرے رہنے کا کیا کام؟ جبکہ دشمن شکست کھا چکا اور کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔ پس تم نے رسولeکی نافرمانی کی اور آپ کے حکم کو چھوڑ دیا ﴿ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ﴾ ’’بعد اس کے، جب اللہ نے تمھیں وہ چیز دکھا دی جو تم پسند کرتے تھے‘‘ اور وہ تھی تمھارے دشمن کی ناکامی اور شکست۔ اس لیے کہ جس کو اللہ تعالیٰ اس چیز سے نواز دے، جو اسے پسند ہو، اس پر دوسرے کی نسبت زیادہ ضروری ہے کہ وہ نافرمانی سے بچے۔ پس خاص طور پر اس حال میں اور عام طور پر ہر حال میں اس پر اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنا واجب ہے۔ ﴿مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا﴾ ’’تم میں سے بعض وہ ہیں جو دنیا چاہتے تھے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا ﴿وَمِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ﴾ ’’اور بعض تم میں سے آخرت چاہتے تھے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے رسول اللہeکے حکم کا التزام کیا اور جو ان کو حکم دیا گیا تھا اس پر ثابت قدم رہے۔ ﴿ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ﴾ ’’پھر تم کو پھیر دیا ان سے‘‘ یعنی جب یہ تمام امور تم میں پائے گئے تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے مقابلے میں پھیر کر بھگا دیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمھاری آزمائش اور تمھارے امتحان کے طور پر جیت دشمن کے ہاتھ رہی۔ تاکہ مومن اور کافر، فرمانبردار اور نافرمان کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ اور تاکہ تم سے جو غلطی سرزد ہوئی ہے اس مصیبت کے ذریعے سے تمھیں معاف کردے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ ’’اس نے تمھیں معاف کر دیا اور اللہ مومنوں پر فضل کرنے والا ہے‘‘ یعنی وہ ان پر بہت زیادہ فضل کرنے والا ہے کیونکہ اس نے انھیں اسلام سے نوازا، اپنے احکام کی طرف راہنمائی کی، ان کے گناہوں کو معاف کر دیا اور ان کے مصائب پر ان کو اجر عطا کیا۔ یہ اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے کہ وہ جو بھلائی یا مصیبت ان کے لیے مقدر کرتا ہے وہ بھی ان کے لیے بھلائی ہی ہوتی ہے۔ اگر انھیں خوشحالی عطا کرتا ہے اور وہ اس پر شکر ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں شکر گزاروں کی جزا دیتا ہے۔ اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور اس پر وہ صبر کرتے ہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ انھیں صبر کرنے والوں کے ثواب سے نوازتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 152 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنساءالنساء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید