پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر امن نازل فرمایا اور تم میں سے ایک جماعت کو امن کی نیند آنے لگی[1] ۔ ہاں کچھ وه لوگ بھی تھے کہ انہیں اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی[2]، وه اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے[3] اور کہتے تھے کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے[4]؟ آپ کہہ دیجئے کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے[5]، یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے[6]، کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ کئے جاتے[7]۔ آپ کہہ دیجئے کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا وه تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے[8]، اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا[9]، اور اللہ تعالی سینوں کے بھید سے آگاه ہے.[10]
حواشی
[1] مذکورہ سراسیمگی کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر مسلمانوں پر اپنا فضل فرمایا اور میدان جنگ میں باقی رہ جانے والے مسلمانوں پر اونگھ مسلط کر دی۔ یہ اونگھ اللہ کی طرف سے سکینت اور نصرت کی دلیل تھی۔ حضرت ابو طلحہ (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد کے دن اونگھ چھائی جا رہی تھی حتیٰ کہ میری تلوار کئی مرتبہ میری ہاتھ سے گری میں اسے پکڑتا، وہ پھر گر جاتی، پھر پکڑتا اور پھر گر جاتی، (صحیح بخاری) نُعَاسًا أَمَنَةً سے بدل ہے۔ طائفہ، واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے (فتح القدیر )
[2] اس سے مراد منافقین ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ان کو تو اپنی جانوں ہی کی فکر تھی۔
[3] وہ یہ تھیں کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کا معاملہ باطل ہے، یہ جس دین کی دعوت دیتے ہیں، اس کا مستقبل مخدوش ہے، انہیں اللہ کی مدد ہی حاصل نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔
[4] یعنی کیا اب ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی فتح ونصرت کا امکان ہے؟ یا یہ کہ کیا ہماری بھی کوئی بات چل سکتی ہے اور مانی جا سکتی ہے؟
[5] تمہارے یا دشمن کے اختیار میں نہیں ہے، مدداسی کی طرف سے آئے گی اور کامیابی بھی اس کے حکم سے ہوگی اور رامرونہی بھی اسی کا ہوگا۔
[6] اپنے دلوں میں نفاق چھپائے ہوئے ہیں ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ رہنمائی کے طالب ہیں۔
[7] یہ وہ آپس میں کہتے یا اپنے دل میں کہتے تھے۔
[8] اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس قسم کی باتوں کا کیا فائدہ؟ موت تو ہر صورت میں آنی ہے اور اسی جگہ پر آنی ہے جہاں اللہ کی طرف سے لکھ دی گئی ہے۔ اگر تم گھروں میں بیٹھے ہوتے اور تمہاری موت کسی مقتل میں لکھی ہوتی تو تمہیں قضا ضروروہاں کھینچ لے جاتی؟۔
[9] یہ جو کچھ ہوا اس سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ تمہارے سینوں کے اندر جو کچھ ہے یعنی ایمان، اسے آزمائے (تاکہ منافق الگ ہو جائیں) اور پھر تمہارے دلوں کو شیطانی وساوس سے پاک کر دے۔
[10] یعنی اس کو تو علم ہے کہ مخلص مسلمان کون ہے اورنفاق کا لبادہ کس نے اوڑھ رکھا ہے ؟ جہاد کی متعدد حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ اس سے مومن اور منافق کھل کر سامنے آجاتے ہیں جنہیں عام لوگ بھی پھر دیکھ اور پہچان لیتے ہیں۔
تفسیر سعدی (اردو)
آیات 154 کی تفسیر
[154] ﴿ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ ﴾ ’’پھر اتارا اس نے تم پر اس غم کے بعد‘‘ یعنی وہ غم جو تمھیں پہنچا ﴿اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآىِٕفَةً مِّنْكُمْ﴾ ’’امن کو جو کہ اونگھ تھی کہ ڈھانک لیا اس نے تمھارے ایک گروہ کو‘‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت، احسان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں کو ثابت قدم رکھنے اور طمانیت میں اضافہ کا باعث تھا۔ کیونکہ خوف زدہ شخص کو، دل خوف سے لبریز ہونے کی وجہ سے اونگھ اور نیند نہیں آتی۔ جب دل سے خوف زائل ہو جاتا ہے، تب نیند آنے کا امکان ہوتا ہے۔ یہ گروہ جس کو اللہ تعالیٰ نے نیند اور اونگھ سے نوازا ، اہل ایمان ہیں جن کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے، اللہ اور اس کے رسولeکی رضا کے حصول اور مسلمانوں کے مصالح کے سوا کوئی اور مقصد نہیں تھا۔
رہا دوسرا گروہ جس کے بارے میں فرمایا: ﴿قَدْ اَهَمَّؔتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ﴾ ’’انھیں فکر میں ڈال دیا تھا ان کی جانوں نے‘‘ تو ان کے نفاق یا ان کے ایمان کی کمزوری کی بنا پر، ان کا اپنی جان بچانے کے سوا کوئی اور ارادہ نہ تھا۔ اس لیے ان کو وہ اونگھ نہ آئی جو دوسروں کو آئی تھی ﴿یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ﴾ ’’وہ کہتے تھے، کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ میں؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے یعنی فتح و نصرت میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ پس انھوں نے اپنے رب، اپنے دین اور اپنے نبی کے بارے میں بدگمانی کی اور انھوں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی دعوت کو پورا نہیں کرے گا۔ انھوں نے یہ بھی سمجھ لیا کہ یہ شکست اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف ایک فیصلہ کن شکست ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جواب میں فرمایا ﴿قُ٘لْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ﴾ ’’کہہ دو کہ تمام معاملے کا اختیار اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔‘‘ (امر) دو امور پر مشتمل ہوتا ہے:(۱) امر قدری اور(۲) امر شرعی۔
پس تمام چیزوں کا ظہور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کی اطاعت کرنے والوں کے حق میں، ان چیزوں کا انجام فتح وظفر ہی ہوتا ہے خواہ ان پر کچھ بھی گزر جائے۔
﴿یُخْفُوْنَ﴾ یعنی منافقین چھپاتے ہیں ﴿ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ﴾ ’’اپنے دلوں میں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس معاملے کو واضح کر دیا جو وہ چھپاتے تھے، چنانچہ فرمایا ﴿یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ﴾ یعنی اگر اس واقعہ میں ہم سے رائے اور مشورہ لیا گیا ہوتا ﴿مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا﴾ ’’تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا انکار اور اس کی تکذیب ہے اور یہ رسول اللہeاور آپ کے اصحاب کرام کی رائے کو بیوقوفی کی طرف منسوب کرنا اور اپنے آپ کو پاک صاف اور صحیح قرار دینا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُ٘لْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ﴾ ’’کہہ دیں، اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے‘‘ گھر ایسی جگہ ہے جہاں قتل کا گمان بعید ترین چیز ہے۔ فرمایا ﴿لَـبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ﴾ ’’تب بھی وہ لوگ ضرور اپنے پڑاؤ کی طرف نکلتے جن کا مارا جانا لکھ دیا گیا تھا‘‘ پس معلوم ہوا کہ اسباب خواہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، وہ تب ہی فائدہ دیتے ہیں جب قضا و قدر معارض نہ ہو۔ جب قضا و قدر اسباب کے خلاف ہو تو اسباب کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کے جو فیصلے لوح محفوظ میں لکھ دیے ہیں وہ نافذ ہو کر رہتے ہیں۔ ﴿وَلِیَبْتَ٘لِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ﴾ ’’تاکہ وہ آزمائے جو تمھارے سینوں میں (نفاق، ایمان اور ضعف ایمان) ہے۔‘‘ ﴿وَلِیُمَحِّ٘صَ مَا فِیْ قُ٘لُوْبِكُمْ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے دلوں کو (شیطانی وسوسوں اور ان سے پیدا ہونے والی مذموم صفات سے) پاک کر دے‘‘ ﴿وَاللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام (خیالات اور ارادوں) کو جانتا ہے جو دلوں کے اندر ہیں اور ان میں چھپے ہوئے ہیں۔ پس اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہوا کہ وہ ایسے اسباب پیدا کرے جن سے سینوں کے بھید اور معاملات کے اسرار نہاں ظاہر ہوں۔