آل عمران

آل عمران

200 آیاتمدنیپارہ 3

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 178

    وَلَا يَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُوٓا۟ إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ

    کافر لوگ ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں، یہ مہلت تو اس لئے ہے کہ وه گناہوں میں اور بڑھ جائیں[1] ، ان ہی کے لئے ذلیل کرنے واﻻ عذاب ہے.

    حواشی

    [1] اس میں اللہ کے قانون امہال (مہلت دینے) کا بیان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت ومشیت کے مطابق کافروں کو مہلت عطا فرماتا ہے، وقتی طور پر انہیں دنیا کی فراغت وخوش حالی سے، فتوحات سے اور مال واولاد سے نوازتا ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ ان پر اللہ کا فضل ہو رہا ہے لیکن اگر اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے والی نیکی اور اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار نہیں کرتے تو یہ دینوی نعمتیں، فضل الٰہی نہیں مہلت الٰہی ہے، جس سے ان کے کفر وفسوق میں اضافہ ہی ہوتا ہے، بالآخر وہ جہنم کے دائمی عذاب کے مستحق قرار پا جاتے ہیں، اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا ہے۔ مثلاً «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ»(1) «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لا يَشْعُرُونَ» (المؤمنون: 55-56) ”کیا وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کے مال واولاد میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ ہم ان کے لئے بھلائیوں میں جلدی کررہے ہیں ؟ نہیں بلکہ وہ سمجھتے نہیں ہیں“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 178 کی تفسیر

    [178] وہ لوگ جو اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں، اس کے دین کو دور پھینکتے ہیں اور اس کے رسولeکے خلاف جنگ کرتے ہیں، یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا ان کو اس دنیا میں چھوڑ دینا، ان کا استیصال نہ کرنا اور ان کو مہلت دینا، ان کے لیے بہتر ہے اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں، معاملہ ایسا نہیں جیسا وہ سمجھتے ہیں۔ یہ مہلت دینا تو ان کے حق میں برا ہے ان کی سزا اور عذاب میں اور اضافہ ہو گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا نُ٘مْلِیْ لَهُمْ لِیَ٘زْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ ﴾ ’’ہم تو انھیں اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ گناہوں میں اور ترقی کریں اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کی اس کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اس کے رویے میں پے در پے کفر کا اظہار ہوتا ہے۔ پھر وہ اس کو غالب اور مقتدر ہستی کی مانند پکڑ لیتا ہے۔ پس ظالموں کو اس مہلت سے ڈرنا چاہیے اور وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اس بڑی اور بلند ہستی کی پکڑ سے رہ جائیں گے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 178 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنساءالنساء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید