آل عمران

آل عمران

200 آیاتمدنیپارہ 3

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 27

    تُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَتُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ ۖ وَتُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ ۖ وَتَرْزُقُ مَن تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

    تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں لے جاتا ہے[1] ، تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے[2]، تو ہی ہے کہ جسے چاہتا ہے بے شمار روزی دیتا ہے۔

    حواشی

    [1] رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کا مطلب موسمی تغیرات ہیں۔ رات لمبی ہوتی ہے تو دن چھوٹا ہو جاتا ہے اور دوسرے موسم میں اس کے برعکس دن لمبا اور رات چھوٹی ہو جاتی ہے۔ یعنی کبھی رات کا حصہ دن میں اور کبھی دن کا حصہ رات میں داخل کردیتا ہے جس سے رات اور دن چھوٹے یا بڑے ہوجاتے ہیں۔ [2] جیسے نطفہ (مردہ) پہلے زندہ انسان سے نکالتا ہے پھر اس مردہ (نطفہ) سے انسان۔ اسی طرح مردہ انڈے سے پہلے مرغی اور پھر زندہ مرغی سے انڈہ (مردہ) یا کافر سے مومن اور مومن سے کافر پیدا فرماتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت معاذ (رضي الله عنه) نے نبی (صلى الله عليه وسلم) سے اپنے اوپر قرض کی شکایت کی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”تم آیت «قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ» (آل عمران) پڑھ کر یہ دعا کرو ”رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا تُعْطِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُمَا وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ، اللَّهُمَّ أغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ، وَاقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”یہ ایسی دعا ہے کہ تم پر احد پہاڑ جتنا قرض بھی ہو تواللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کا تمہارے لئے انتظام فرما دے گا۔“ (مجمع الزوائد: 10/186- رجاله ثقات)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 26 - 27 کی تفسیر

    [27-26] اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ کہہ دیجیے ﴿اللّٰهُمَّ مٰؔلِكَ الْمُلْكِ﴾ ’’اے اللہ! بادشاہی کے مالک‘‘ یعنی تو بادشاہ ہے جو تمام ملکوں کا مالک ہے۔ بادشاہ کی صفت علی الاطلاق تیرے لیے ہے۔ اور آسمان کی اور زمین کی تمام سلطنت تیری ہی ہے۔ اس میں تبدیلیاں لانا اور انتظام کرنا سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ پھر چند تبدیلیاں ذکرکی ہیں جو اکیلے باری تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ فرمایا: ﴿تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْ٘زِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ﴾ ’’تو جسے چاہے باشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے‘‘ اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایران کے کسریٰ بادشاہوں سے، اور روم کے قیصر بادشاہوں سے، اور ان کے پیروکاروں سے حکومت چھین کر محمدeکو عطا فرمائے گا۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ وللہ الحمد۔ لہٰذا حکومت کا مل جانا یا چھن جانا اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔ یہ فرمان اللہ کی اس سنت کے خلاف نہیں جو اس نے کچھ تکوینی اور دینی اسباب قائم کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے حکومت باقی رہتی،ملتی اور ختم ہوجاتی ہے۔ یہ اسباب بھی اللہ کی مشیت کے تابع ہیں ۔کوئی سبب مستقل بالذات نہیں۔ بلکہ تمام اسباب قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بادشاہی کے حصول کے جو اسباب مقرر کیے ہیں ان میں ایمان اور عمل صالح بھی ہیں۔ اس مقصد کے لیے چند ضروری اعمال صالحہ یہ ہیں: مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد، جو آلات تیار کرنے اور حاصل کرنے ممکن ہوں، جمع کرنا، صبر و ثبات، باہمی تنازعات سے پرہیز۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ (النور:24؍55) ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے، کہ وہ انھیں زمین میں ضرور خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا‘‘ اللہ نے بتایا ہے کہ مذکورہ خلافت کے حصول کی شرط ایمان اور عمل صالح ہے۔ اور فرمایا: ﴿هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَۙ۰۰۶۲ وَاَلَّفَ بَیْنَ قُ٘لُوْبِهِمْ﴾ (الانفال:8؍62۔63) ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی اور ان کے دلوں میں محبت ڈال دی‘‘ اور فرمایا ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۰۰ وَاَطِیْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِیْنَ﴾ (الانفال:8؍45۔46) ’’اے مومنو! جب تم کسی جماعت کا سامنا کرو تو ثابت قدم رہو، اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ نے بتایا ہے کہ مومنوں کی باہمی محبت، ثابت قدمی اور اتفاق دشمنوں پر فتح کا باعث ہے۔ اگر آپ مسلمان ملکوں کے حالات پر غور کریں تو ان کی سلطنت ختم ہونے کا بڑا سبب دین سے دوری اور باہمی افتراق ہے جس سے دشمنوں کو حوصلہ ہوا اور ان کے درمیان لڑائی ڈال دی۔ پھر اللہ نے فرمایا: ﴿وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ﴾ ’’تو جسے چاہے (اپنی اطاعت کی وجہ سے) عزت دے‘‘ ﴿ وَتُذِلُّ٘ مَنْ تَشَآءُ ﴾ ’’اور جسے چاہے (معصیت کی وجہ سے) ذلت دے‘‘ ﴿ اِنَّكَ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴾ ’’بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ کوئی چیز تیرے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ سب کچھ تیری قدرت اور مشیت کے تحت ہے ﴿ تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ ﴾ ’’توہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے، اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔‘‘ جس کی وجہ سے موسم پیدا ہوتے ہیں، روشنی، دھوپ، سایہ، سکون اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ جو اللہ کی قدرت، عظمت، حکمت اور رحمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَتُخْرِجُ الْ٘حَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ﴾ ’’تو نکالتا ہے جان دار کو بے جان سے۔‘‘ جیسے انڈے سے چوزہ، گٹھلی سے درخت، بیج سے کھیتی اور کافر سے مومن ۔ ﴿ وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْ٘حَیِّ ﴾ ’’اور نکالتا ہے بے جان کو جان دار سے۔‘‘ جیسے پرندے سے انڈا، درخت سے گٹھلی، پودے سے دانہ اور مومن میں سے کافر۔ یہ اللہ کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام اشیا مسخر ہیں، ان کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا متضاد اشیا کو پیدا کرنا اور ایک چیز میں سے اس سے متضاد چیز پیدا کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ سب مجبور و لاچار ہیں۔ ﴿وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ﴾ ’’توہی جسے چاہتا ہے، بے حساب روزی دیتا ہے۔‘‘ تو جسے چاہتا ہے وہاں سے وسیع رزق دے دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور نہ اس نے کمائی کی ہوتی ہے۔ پھر فرمایا:

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنساءالنساء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید