آل عمران

آل عمران

200 آیاتمدنیپارہ 3

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    مِن قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ ٱلْفُرْقَانَ ۗ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ ذُو ٱنتِقَامٍ

    اس سے پہلے، لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر[1] ، اور قرآن بھی اسی نے اتارا[2]، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے، بدلہ لینے واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] اس سے پہلے انبیاء پرجو کتابیں نازل ہوئیں۔ یہ کتاب اس کی تصدیق کرتی ہے یعنی جوباتیں ان میں درج تھیں، ان کی صداقت اور ان میں بیان کردہ پیش گوئیوں کا اعتراف کرتی ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ قرآن کریم بھی اسی ذات کا نازل کردہ ہے جس نے پہلے بہت سی کتابیں نازل فرمائیں۔ اگر یہ کسی اور کی طرف سے یا انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہوتا تو ان میں باہم مطابقت کے بجائے مخالفت ہوتی۔ [2] یعنی اپنے اپنے وقت میں تورات اور انجیل بھی یقیناً لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ تھیں، اس لئے کہ ان کے اتارنے کا مقصد ہی یہی تھا۔ تاہم اس کے بعد وَأَنْزَلَ الْفُرْقَانَ دوبارہ کہہ کر وضاحت فرما دی۔ کہ مگر اب تورات وانجیل کادور ختم ہو گیا، اب قرآن نازل ہو چکا ہے، وہ فرقان ہے اور اب صرف وہی حق وباطل کی پہچان ہے، اس کو سچا مانے بغیر عنداللہ کوئی مسلمان اور مومن نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 3 - 4 کی تفسیر

    [4,3]﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ ﴾ ’’جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ یعنی گزشتہ کتابوں کی تائید کرتی ہے جس مسئلہ کے حق میں قرآن فیصلہ دے وہی مقبول ہے اور جس کی یہ تردید کرے وہی ناقابل قبول ہے۔ یہ ان تمام مسائل کے مطابق ہے جن پر تمام رسولوں کا اتفاق ہے۔ ان سے اس کا سچا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اہل کتاب جب تک قرآن پر ایمان نہ رکھیں تب تک اپنی کتابوں کو سچا نہیں مان سکتے۔ کیونکہ قرآن کا انکار ان کتابوں پر ایمان کو کالعدم کردیتا ہے۔ ﴿ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ ﴾ ’’اس نے(موسیٰuپر)تورات‘‘ اور عیسیٰuپر ﴿ وَالْاِنْجِیْلَ﴾ ’’انجیل کو اتارا تھا‘‘ اس ﴿ مِنْ قَبْلُ ﴾ ’’قرآن کے نازل کرنے سے پہلے۔‘‘ ﴿ هُدًى لِّلنَّاسِ ﴾ لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر‘‘ ہدایت کی صفت ان تمام کے لیے ہے یعنی اللہ نے قرآن تورات اور انجیل کو لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے رہنما بنا کر نازل کیا تھا۔ جس نے اللہ کی یہ ہدایت قبول کرلی، وہ ہدایت یافتہ ہوا۔ اور جس نے قبول نہ کیا وہ گمراہ رہا۔ ﴿ وَاَنْزَلَ الْ٘فُرْقَانَ ﴾ ’’اور اس نے فرقان کو نازل کیا۔‘‘ یعنی دلائل و براہین قاطعہ، جن سے تمام مقاصد و مطالب پایہ ثبوت کو پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے مخلوق کی ضرورت کے مطابق تفصیل و تفسیر بیان کی ہے۔ جس سے احکام و مسائل نہایت واضح ہوگئے ہیں۔ لہٰذا کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اور اس پر ایمان نہ لانے والے کسی شخص کے پاس کوئی حجت و دلیل باقی نہیں رہی، اس لیے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں‘‘ حالانکہ اللہ نے انھیں خوب واضح فرما دیا اور تمام شبہات کو دور فرما دیا ہے۔ ﴿ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ﴾ ’’ان کے لیے سخت عذاب ہے۔‘‘ جس کی شدت کا اندازہ کرنا ممکن نہیں، اور جس کی حقیقت و کیفیت معلوم نہیں ہوسکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِیْزٌ ﴾ ’’اللہ غالب ہے‘‘ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور ﴿ ذُو انْتِقَامٍ ﴾ جو اس کی نافرمانی کرے اس سے ’’بدلہ لینے والا ہے‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنساءالنساء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید