آل عمران

آل عمران

200 آیاتمدنیپارہ 3

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 57

    وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٰلِمِينَ

    لیکن ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالیٰ ان کا ﺛواب پورا پورا دے گا اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں سے محبت نہیں کرتا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 56 - 57 کی تفسیر

    [57,56] چنانچہ اللہ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ﴿فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ﴾ ’’پھر جنھوں نے انکار کیا‘‘ اللہ کے ساتھ کفر کیا، اس کی آیات کا اور رسولوں کا انکار کیا ﴿ فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابً٘ا شَدِیْدًؔا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ﴾ ’’پس میں انھیں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا‘‘ دنیا کے عذاب سے مراد ظاہر نظر آنے والی مصیبتیں، سزائیں، قتل ، ذلت وغیرہ ہیں۔ اور آخرت کا عذاب سب سے بڑی آفت اور مصیبت ہے۔ یعنی جہنم کا عذاب، اللہ کی ناراضی، اور نیکی کے ثواب سے محرومی۔ ﴿ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰ٘صِرِیْنَ ﴾ ’’اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ وہ بھی جنھیں وہ اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کرنے والے سمجھتے ہیں، وہ بھی نہیں، جنھیں وہ اللہ کو چھوڑ کر دوست بناتے ہیں، نہ ان کے رفیق نہ رشتے دار، نہ وہ خود اپنی کچھ مدد کرسکیں گے۔ ﴿ وَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ﴾ ’’لیکن جو لوگ ایمان لائے‘‘ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، موت کے بعد کی زندگی پر، اور ان سب امور پرایمان لائے، جن پرایمان لانے کا انھیں حکم دیا گیا ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور نیک اعمال کیے‘‘ دل، زبان اور بدن سے ادا ہونے والے وہ اعمال جنھیں رسولوں نے مشروع اور مطلوب قرار دیا۔ اور ان اعمال سے ان کا مقصد رب العالمین کو خوش کرنا تھا۔ ﴿ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ﴾ ’’پس انھیں وہ (اللہ تعالیٰ) ان کا پورا ثواب دے گا۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں دنیا میں بھی نیکیوں کا ثواب ملے گا، یعنی عزت، احترام، مدد، پاکیزہ زندگی، البتہ مکمل ثواب قیامت کو ملے گا کہ اللہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا ثواب بھی دے گا، اور اپنے فضل و کرم سے مزید انعامات بھی دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہے اور انھیں عذاب دیتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 57 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنساءالنساء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید