آل عمران

آل عمران

200 آیاتمدنیپارہ 3

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 71

    يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لِمَ تَلْبِسُونَ ٱلْحَقَّ بِٱلْبَـٰطِلِ وَتَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

    اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق وباطل کو کیوں خلط ملط کر رہے ہو اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟[1]

    حواشی

    [1] اس میں یہودیوں کے دو بڑے جرائم کی نشاندہی کرکے انہیں ان سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ پہلا جرم حق وباطل اور سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرنا تاکہ لوگوں پر حق اور باطل واضح نہ ہو سکے۔ دوسرا کتمان حق۔ یعنی نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے جو اوصاف تورات میں لکھے ہوئے تھے، انہیں لوگوں سے چھپانا، تاکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کم از کم اس اعتبار سے نمایاں نہ ہو سکے۔ اور یہ دونوں جرم جانتے بوجھتے کرتے تھے جس سے ان کی بدبختی دو چند ہوگئی تھی۔ ان کے جرائم کی نشان دہی سورۂ بقرہ میں بھی کی گئی ہے «وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ» (البقرة: 42) ”حق کو باطل کے ساتھ مت ملاؤ اور حق مت چھپاؤ اور تم جانتے ہو۔“ اہل کتاب کے لفظ کو بعض مفسرین نے عام رکھا ہے، جس میں یہودو نصاریٰ دونوں شامل ہیں۔ یعنی دونوں کو ان جرائم مذکورہ سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد صرف وہ قبائل یہود ہیں جو مدینے میں رہائش پذیر تھے۔ بنو قریظہ، بنو نضیر، اور بنو قینقاع۔ زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کابراہ راست انہی سے معاملہ تھا اور یہی نبی (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 69 - 74 کی تفسیر

    [74-69] اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمھیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿وَدَّؔ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا ﴾ (البقرۃ:2؍109) ’’اہل کتاب کے اکثر لوگ تمھیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں‘‘ اور جسے کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتاہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لیے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا: ﴿ وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ ﴾ ’’دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں‘‘ مومنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش خود ان کی گمراہی اور عذاب میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابً٘ا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ﴾ (النحل:16؍88) ’’جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم ان کے عذاب میں عذاب کا اضافہ کردیں گے، کیونکہ وہ فساد کرتے تھے‘‘ ﴿ وَمَا یَشْ٘عُرُوْنَ ﴾ ’’اور سمجھتے نہیں‘‘ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی کوشش خود انھی کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑ رہے۔ ﴿ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْ٘فُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ ﴾ ’’اے اہل کتاب! تم باوجود قائل ہونے کے پھر بھی اللہ کی آیات سے کیوں کفر کررہے ہو؟‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی آیات کا انکار کرنے پر کون سی چیز مجبور کرتی ہے حالانکہ تمھیں معلوم ہے کہ جس مذہب پر تم کاربند ہو، وہ باطل ہے اور محمدeجو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے، خود تمھیں بھی اس میں شک نہیں بلکہ تم اس کی گواہی دیتے ہو اور بعض اوقات ایک دوسرے کو خفیہ طورپر یہ بات بتا بھی دیتے ہو۔ اس طرح اللہ نے انھیں اس گمراہی سے روکا ہے۔ پھر دوسروں کو گمراہ کرنے پر انھیں زجروتوبیخ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ﴿ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْ٘بِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْ٘تُمُوْنَ الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ ’’اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کرتے ہو؟ اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟‘‘ اللہ نے انھیں حق و باطل کو خلط ملط کرنے اور حق کو چھپانے پر توبیخ کی ہے۔ کیونکہ ان دو طریقوں سے وہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جب علماء حق و باطل میں امتیاز نہ کریں، بلکہ معاملہ مبہم رہنے دیں، اور جس کو ظاہر کرنا ان کا فرض ہے، اسے چھپالیں، تو اس کا نتیجہ بہت برا نکلے گا کہ حق چھپ جائے گا اور باطل عام ہوجائے گا۔ اور جو عوام حق کے متلاشی ہوں گے، انھیں ہدایت نہیں ملے گی۔ حالانکہ اہل علم سے تو یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق ظاہر کریں۔ اس کا اعلان کریں، حق کو باطل سے اور پاک کو ناپاک سے الگ کرکے واضح کردیں۔ حلال و حرام اور صحیح و غلط عقائد کو الگ الگ کردیں، تاکہ ہدایت یافتہ لوگ ہدایت پر قائم رہیں اور گمراہ حق کی طرف پلٹ آئیں او ر عناد کی وجہ سے انکار کرنے والوں پر اتمام حجت ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ۠ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْ٘تُمُوْنَهٗ١ٞ فَنَبَذُوْهُ وَرَؔآءَؔ ظُهُوْرِهِمْ ﴾(آل عمران:3؍187) ’’جب اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ لیا جنھیں کتاب دی گئی تھی کہ اسے لوگوں کے لیے بیان کریں گے، اور چھپائیں گے نہیں، تو انھوں نے اس وعدے کو پس پشت ڈال دیا۔‘‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خبیث جماعت کے ارادوں، اور مومنوں کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَقَالَتْ طَّآىِٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْ٘فُ٘رُوْۤا اٰخِرَهٗ ﴾ ’’اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا: جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیاہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ‘‘ یعنی صبح کے وقت مکر اور دھوکا کرتے ہوئے ایمان کا اظہار کرو۔ اور جب شام ہو تو اسلام سے نکل جاؤ۔ ﴿ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ بھی (اپنے دین سے) پلٹ جائیں۔‘‘ پس وہ سوچیں گے اگر یہ دین صحیح ہوتا تو اہل کتاب جو اہل علم ہیں وہ اس سے نہ نکلتے۔ انھوں نے یہ چاہا، اپنے آپ کو اچھا سمجھتے اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ لوگ ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے ان کے ہر قول و عمل میں ان کی پیروی کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ ﴿لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَ٘بِـعَ دِیْنَكُمْ ﴾ ’’سوائے تمھارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو۔‘‘ یعنی تم صرف اپنے ہم مذہب افراد پر اعتماد کرنا، دوسروں سے اس بات کو چھپا کر رکھنا۔ اگر تم نے دوسرے مذہب والوں کو بتا دیا تو جو علم تمھیں حاصل ہے انھیں بھی حاصل ہوجائے گا، تو وہ تمھارے جیسے ہوجائیں گے یا قیامت کے دن تم سے بحث کریں گے اور رب کے پاس تمھارے خلاف گواہی دیں گے کہ تم پر حجت قائم ہوچکی تھی۔ اور تمھیں ہدایت معلوم ہوچکی تھی، لیکن تم نے اس کی اتباع نہیں کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم مومنوں کو نہیں بتائیں گے تو انھیں اس سازش کا بالکل علم نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ ان کے خیال میں علم صرف انھی کے پاس ہوسکتا ہے جس سے ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الْهُدٰؔى هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے‘‘ لہٰذا ہر ہدایت یافتہ کو ہدایت اللہ ہی سے ملتی ہے۔ علم میں یا تو حق کو جاننا شامل ہے یا اسے اختیار کرنا۔ علم صرف وہی ہے جو اللہ کے رسول لائے ہیں اور توفیق صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کو علم بہت کم ملا ہے۔ اور توفیق سے وہ بالکل محروم ہیں کیونکہ ان کی نیتیں اور ارادے غلط ہیں۔ اس کے برعکس اس امت کو اللہ کی ہدایت کی وجہ سے علوم و معارف بھی حاصل ہوئے ہیں اور ان پر عمل کی توفیق بھی۔ اس وجہ سے وہ دوسروں سے افضل ہوگئے۔ لہٰذا وہی رہنما قرار پائے جو اللہ کے حکم کے مطابق ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ امت پر اللہ کا عظیم فضل و احسان ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا ﴿ قُ٘لْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، فضل تو اللہ ہی كے ہاتھ میں ہے۔‘‘ وہی اپنے بندوں پر ہر قسم کا احسان فرماتا ہے۔ ﴿یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ ﴾ ’’وہ جسے چاہے اسے دے‘‘ جو اس کے اسباب اختیار کرے گا، اللہ اس کو اپنا فضل دے گا، ﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴾ ’’اوراللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ اس کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔ وہ جانتا ہے کون احسان کے قابل ہے، اسے وہ عطا فرماتا ہے اور کون اس کا مستحق نہیں، چنانچہ اسے محروم رکھتا ہے۔ ﴿ یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ﴾ ’’وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کرلے‘‘ یعنی اس کی وہ مطلق رحمت جو دنیا میں ہوتی ہے اور آخرت سے متصل ہے۔ اس سے مراد دین کی نعمت اور اس کی تکمیل کرنے والی چیزیں ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الْ٘فَضْلِ الْعَظِیْمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘ اس کے فضل کی وسعت بیان نہیں کی جاسکتی، بلکہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آسکتا۔ اس کا فضل و احسان وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک اس کا علم پہنچتا ہے۔ اے ہمارے رب! تیری رحمت اور تیرا علم ہر شے کو محیط ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 71 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنساءالنساء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید