الروم

روم

60 آیاتمکیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 12

    وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُبْلِسُ ٱلْمُجْرِمُونَ

    اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو گنہگار حیرت زده ره جائیں گے.[1]

    حواشی

    [1] إِبْلاسٌ کے معنی ہیں، اپنے موقف کے اثبات میں کوئی دلیل پیش نہ کر سکنا اور حیران وساکت کھڑے رہنا۔ اسی کو ناامیدی کے مفہوم سے تعبیر کر لیتے ہیں۔ اس اعتبار سے مُبْلِسٌ وہ ہوگا جو ناامید ہو کر خاموش کھڑا ہو اور اسے دلیل نہ سوجھ رہی ہو،قیامت والے دن کافروں اور مشرکوں کا یہی حال ہوگا یعنی معاینہ عذاب کے بعد وہ ہر خبرسے مایوس اور دلیل وحجت پیش کرنے سے قاصر ہوں گے۔ مجرموں سے مراد کافر ومشرک ہیں جیسا کہ اگلی آیت سے واضح ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 11 - 13 کی تفسیر

    [13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے۔ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا ، پھر نیکوکاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا: ﴿وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’اور جس دن قیامت برپا ہوگی‘‘ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز ﴿یُ٘بْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ ﴾ ’’گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان لوگوں نے اس روز کے لیے جرائم کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا ہوگا۔ جرائم سے مراد کفر، شرک اور دیگر بڑے بڑے گناہ ہیں۔ چونکہ انھوں نے ایسے اعمال آگے روانہ کیے تھے جو عذاب کے موجب تھے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا عمل نہ تھا جو ثواب کا موجب ہوتا اس لیے وہ اعمال خیر کے اعتبار سے مفلس ہوں گے اور سخت مایوس ہوں گے۔ ان کی تمام افترا پردازیاں گم ہو جائیں گی، ان کے خود ساختہ معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکیں گے نہ ان کی کوئی سفارش کر سکے گا۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَلَمْ یَكُ٘نْ لَّهُمْ مِّنْ شُ٘رَؔكَآىِٕهِمْ ﴾ ’’اور نہیں ہوگا ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی‘‘ جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿شُفَعٰٓؤُا وَؔكَانُوْا بِشُ٘رَؔكَآىِٕهِمْ كٰفِرِیْنَ ﴾ ’’سفارشی اور وہ اپنے شریکوں کا انکارکردیں گے۔‘‘ یعنی مشرکین اپنے ان خود ساختہ معبودوں سے بے زاری کا اظہار کریں گے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا اور معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١ٞ مَا كَانُوْۤا اِیَّ٘انَا یَعْبُدُوْنَ ﴾ (القصص:28؍63) ’’(اے اللہ!) ہم تیرے سامنے براء ت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں گے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 12 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتلقمانلقمان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید