الروم

روم

60 آیاتمکیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 29

    بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَهْوَآءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ فَمَن يَهْدِى مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ

    بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ﻇالم تو بغیر علم کے[1] خواہش پرستی کر رہے ہیں، اسے کون راه دکھائے جسے اللہ تعالیٰ راه سے ہٹا دے[2]، ان کا ایک بھی مددگار نہیں.[3]

    حواشی

    [1] یعنی اس حقیقت کا انہیں ادراک ہی نہیں ہے کہ وہ علم سے بے بہرہ اور ضلالت کا شکار ہیں اور اسی بے علمی اور گمراہی کی وجہ سے وہ اپنی عقل کو کام میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اپنی نفسانی خواہشات اور آرائے فاسدہ کے پیرو کار ہیں۔ [2] کیونکہ اللہ کی طرف سےہدایت اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے اندر ہدایت کی طلب کی اور آرزو ہوتی ہے،جو اس طلب صادق سےمحروم ہوتے ہیں، انہیں گمراہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑدیا جاتا ہے۔ [3] یعنی ان گمراہوں کا کوئی مددگار نہیں جو انہیں ہدایت سے بہرہ ور کر دے یا ان سے عذاب کو پھیر دے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 29 کی تفسیر

    [29] جب اس مثال سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتا ہے، پھر اس کی عبادت کرتا ہے اور اپنے معاملات میں اس پر بھروسہ کرتا ہے، تو وہ حق پر نہیں تو وہ کون سی چیز ہے جو انھیں ایک امر باطل پر اقدام کے لیے آمادہ کرتی ہے جس کا بطلان اس کے لیے واضح اور اس کی دلیل ظاہر ہوچکی ہے؟ یقینا ان کی خواہشات نفس ان کے اس اقدام کی موجب ہیں، اس لیے فرمایا: ﴿بَلِ اتَّ٘بَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَؔهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﴾ ’’مگر جو ظالم ہیں وہ بے سمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ ان کے ناقص نفس، جس کا نقص ان امور میں ظاہر ہوچکا ہے جن کا تعلق خواہشات نفس سے ہے، ایسی بات چاہتے ہیں جس کو عقل اور فطرت نے فاسد قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ان کے پاس کوئی ایسی دلیل و برہان نہیں جو اس کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہو۔ ﴿فَ٘مَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ ﴾ ’’پس جسے اللہ گمراہ کردے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟‘‘ یعنی ان کی عدم ہدایت پر تعجب نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کی پاداش میں گمراہ کر دیا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی اس کا مدمقابل ہے نہ کوئی مخالف۔ ﴿وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰ٘صِرِیْنَ ﴾ جب وہ عذاب کے مستحق قرار دے دیے جائیں گے تو کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا جو ان کی مدد کر سکے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 29 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتلقمانلقمان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید