لقمان

لقمان

34 آیاتمکیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 21

    وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ ۚ أَوَلَوْ كَانَ ٱلشَّيْطَـٰنُ يَدْعُوهُمْ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی وحی کی تابعداری کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو جس طریق[1] پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی کی تابعداری کریں گے، اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کےعذاب کی طرف بلاتا ہو.

    حواشی

    [1] یعنی طرفگی یہ ہے کہ ان کےپاس کوئی عقلی دلیل ہے، نہ کسی ہادی کی ہدایت اور نہ کسی صحیفہ آسمانی سے کوئی ثبوت، گویا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 20 - 21 کی تفسیر

    [20، 21] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور انھیں ان نعمتوں پر شکر کرنے، ان کا مشاہدہ کرنے اور ان سے عدم غفلت کا حکم دیتا ہے ، چنانچہ فرمایا: ﴿اَلَمْ تَرَوْا ﴾ کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا؟ کیا تم نے اپنی ظاہری اور دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہیں کی؟ ﴿اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ ﴾ کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (سورج، چاند اور ستاروں میں سے) جو کچھ آسمان میں ہے، اسے تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے۔‘‘ یہ سب بندوں کے فائدے کے لیے مسخر ہیں۔﴿وَمَا فِی الْاَرْضِ ﴾ ’’اور جو کچھ زمین میں ہے۔‘‘ یعنی تمام حیوانات، درخت، کھیتیاں، دریا اور معدنیات وغیرہ کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے جیسا کہ فرمایا: ﴿هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ﴾ (البقرۃ:2؍29) ’’وہی تو ہے جس نے زمین کی سب چیزیں تمھارے لیے پیدا کیں۔‘‘ ﴿وَاَسْبَغَ عَلَیْكُمْ ﴾ اور جس نے تمھیں دین و دنیا کی نعمتوں، بہت سی منفعتوں کے حصول اور مضرتوں سے دور ہونے جیسی وافر، ظاہری اور باطنی نعمتوں سے ڈھانپ لیا ہے۔ ان میں سے بعض کو ہم جانتے ہیں اور بعض کو نہیں جانتے۔ تمھارا وظیفہ یہ ہونا چاہیے کہ تم منعم کی محبت کے ساتھ اور اس کے سامنے سرافگندہ ہو کر ان نعمتوں پر شکر کا اظہار کرو، ان نعمتوں کو اس کی اطاعت میں صرف کرو اور ان نعمتوں سے ان کی نافرمانی پر مدد نہ لو۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان نعمتوں کے پے درپے عطا ہونے کے باوجود ﴿مِنَ النَّاسِ مَنْ ﴾ ’’لوگوں میں ایسا آدمی بھی ہے جو‘‘ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ ان نعمتوں پر ناشکری کرتا ہے۔ اس ہستی کا انکار کرتا ہے جس نے اسے ان نعمتوں سے نوازا اور اس نے اس کے اس حق کو تسلیم نہ کیا جس کے لیے اس نے کتابیں نازل کیں اور اپنے رسول بھیجے۔ ﴿یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ ﴾ اور اس نے باطل دلائل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں جھگڑنا شروع کیا تاکہ حق کو نیچا دکھائے اور اس دعوت کو جسے رسول لے کر آیا ہے، یعنی اللہ وحدہ کی عبادت کی دعوت کو ٹھکرا دے اور یہ جھگڑنے والا شخص ﴿بِغَیْرِ عِلْمٍ ﴾ کسی علم اور کسی بصیرت کے بغیر جھگڑتا ہے۔ پس اس کا جھگڑا کسی علمی بنیاد پر مبنی نہیں ہے کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اس کے ساتھ بات چیت میں نرمی کی جائے ﴿وَّلَا هُدًى ﴾ اور نہ کسی ہدایت پر مبنی ہے، جس کی بنا پر ہدایت یافتہ لوگوں کی پیروی کی جاتی ہے ﴿وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ﴾ اور نہ اس کا مجادلہ کسی روشن اور حق کو واضح کرنے والی کسی کتاب پر مبنی ہے۔ پس اس کا مجادلہ کسی معقول یا منقول دلیل پر مبنی ہے نہ ہدایت یافتہ لوگوں کی اقتدا پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کی بحث و جدال تو صرف اپنے ان آباء و اجداد کی تقلید پر مبنی ہے جو کسی طرح بھی راہ راست پر نہ تھے، بلکہ خود گمراہ اور گمراہ کنندہ تھے۔ ﴿وَاِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کی اتباع کرو۔‘‘ یعنی جو کچھ اس نے رسولوں کے ذریعے سے نازل فرمایا ہے کیونکہ یہی حق ہے اور ان کے سامنے اس کے ظاہری دلائل بیان کیے ہیں ﴿قَالُوْا ﴾ تو وہ اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿بَلْ نَ٘تَّ٘بِـعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔‘‘ یعنی ہم کسی کی خاطر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ان عقائد و نظریات کو نہیں چھوڑ سکتے جن پر ہمارے باپ دادا عمل پیرا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان کے باپ دادا کا رد کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَوْ كَانَ الشَّ٘یْطٰ٘نُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ ﴾ ’’خواہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو۔‘‘ یعنی ان کے آباء و اجداد نے شیطان کی آواز پر لبیک کہا اور اس کے پیچھے چل پڑے اور یوں وہ شیطان کے چیلوں میں شامل ہو گئے اور ان پر حیرت و تردد نے غلبہ پا لیا۔ کیا یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ ان کی پیروی کی جائے اور ان کے طریقے پر چلا جائے یا یہ چیز ان کو ان کے آباء و اجداد کے مسلک پر چلنے سے ڈراتی ہے اور ان کی اور ان کے پیروکاروں کی گمراہی کا اعلان کرتی ہے؟ ان کے آباء واجداد کے لیے شیطان کی دعوت کسی محبت اور مودت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ تو ان کے ساتھ عداوت اور فریب ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیروکار اس کے دشمن ہیں جن پر قابو پانے میں وہ کامیاب ہوا ہے۔ جب لوگ اس کی دعوت کو قبول کر کے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے مستحق بنتے ہیں تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 21 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتسجدہالسجدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید