لقمان

لقمان

34 آیاتمکیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 6

    وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ ٱلْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ

    اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں[1] کہ بےعلمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راه سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں[2]، یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے.[3]

    حواشی

    [1] اہل سعادت، جو کتاب الٰہی سے راہ یاب اور اس کے سماع سے فیض یاب ہوتے ہیں، ان کے ذکر کے بعد ان اہل شقاوت کا بیان ہو رہا ہے جو کلام الٰہی کے سننے سے تو اعراض کرتے ہیں، البتہ ساز وموسیقی، نغمہ وسرور اور گانے وغیرہ خوب شوق سے سنتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خریدنے سے مراد یہی ہے کہ آلات طرب شوق سے اپنے گھروں میں لاتے اور پھر ان سے لذت اندوز ہوتے ہیں۔ لَهْوَ الْحَدِيثِ سے مراد گانا بجانا، اس کا ساز وسامان اور آلات، سازو موسیقی اور ہر وہ چیز ہے جو انسانوں کو خیر اور معروف سے غافل کر دے۔ اس میں قصے، کہانیاں، افسانے، ڈرامے، ناول اور جنسی اور سنسنی خیز لٹریچر، رسالے اور بے حیائی کے پرچارک اخبارات سب ہی آجاتے ہیں اور جدید ترین ایجادات ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، ویڈیو فلمیں وغیرہ بھی۔ عہد رسالت میں بعض لوگوں نے گانے بجانے والی لونڈیاں بھی اسی مقصد کے لئے خریدی تھیں کہ وہ لوگوں کا دل گانے سنا کر بہلاتی رہیں تاکہ قرآن واسلام سے وہ دور رہیں۔ اس اعتبار سے اس میں گلوکارائیں بھی آجاتی ہیں جو آج کل فن کار، فلمی ستارہ اور ثقافتی سفیر اور پتہ نہیں کیسے کیسے مہذب، خوش نما اور دل فریب ناموں سے پکاری جاتی ہیں۔ [2] ان تمام چیزوں سے یقیناً انسان اللہ کے راستے سےگمراہ ہو جاتے ہیں اور دین کو استہزا وتمسخر کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ [3] ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرنے والے ارباب حکومت، ادارے، اخبارات کے مالکان، اہل قلم اور فیچر نگار بھی اسی عذاب مہین کے مستحق ہوں گے۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 6 کی تفسیر

    [6] ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ ﴾ ’’اور لوگوں میں سے جو‘‘ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ﴿یَّشْتَرِیْ ﴾ ’’خریدتا ہے‘‘ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ﴿لَهْوَ الْحَدِیْثِ ﴾ ’’لغو باتیں‘‘ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام، ہر قسم کی لغویات، ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں، ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ، سب و شتم، شیطانی گانا بجانا، غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں، جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں، داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ ﴿لِیُضِلَّ ﴾ تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے ﴿عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﴾ ’’بغیر علم کے اللہ کی راہ سے‘‘ یعنی اپنے فعل میں خود گمراہی کا راستہ اختیار کر کے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے، اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد اس کا فائدہ مند بات، عمل نافع، حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔ جب ایسے شخص میں باطل کی مدح، اس کی ترغیب، حق میں جرح و قدح، حق اور اہل حق کے ساتھ استہزا وتمسخراکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ بے علم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے، جس میں گمراہ شخص امتیاز کر سکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ ﴾ ’’ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتسجدہالسجدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید