لقمان

لقمان

34 آیاتمکیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 7

    وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِىٓ أُذُنَيْهِ وَقْرًا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

    جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح منھ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں[1] ، آپ اسے درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے.

    حواشی

    [1] یہ اس شخص کا حال ہےجو مذکورہ لہوولعب کی چیزوں میں مگن رہتا ہے، وہ آیات قرانیہ اور اللہ ورسول کی باتیں سن کر بہرہ بن جاتا ہے حالانکہ وہ بہرہ نہیں ہوتا اور اس طرح منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں، کیوں کہ اس کے سننے سےوہ ایذا محسوس کرتا ہے، اس لئے اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، وقرا کے معنی ہیں کانوں میں ایسا بوجھ جو اسے سننے سے محروم کر دے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 7 کی تفسیر

    [7] اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا تُ٘تْ٘لٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں‘‘ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے ﴿وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا ﴾ تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کر کے چل دیتا ہے۔ ﴿كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا ﴾ ’’جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو‘‘ بلکہ ﴿كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْ٘رًا ﴾ ’’گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو‘‘ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو، لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ ﴿فَبَشِّرْهُ ﴾ ’’پس اس کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کر دے اور اس کے چہرے پر بدحالی، اندھیرا اور گردوغبار چھا جائیں۔ ﴿بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ﴾ ’’دردناک عذاب کی۔‘‘ جو قلب و بدن کے لیے بہت درد ناک ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کو جانا جا سکتا ہے۔یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتسجدہالسجدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید