السجدة

سجدہ

30 آیاتمکیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 18

    أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا ۚ لَّا يَسْتَوُۥنَ

    کیا وه جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو[1] ؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے.

    حواشی

    [1] یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ کے ہاں مومن اور کافر برابر نہیں ہیں بلکہ ان کے درمیان بڑا فرق وتفاوت ہوگا مومن اللہ کے مہمان ہوں گے اور اعزاز وکرام کے مستحق اور فاسق وکافر تعزیر وعقوبت کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم کی آگ میں جھلسیں گے۔ اس مضمون کو دوسرے مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ جاثیہ:21، سورۂ ص:28، سورۂ حشر:20، وغیرھا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 18 کی تفسیر

    [18] اللہ تبارک و تعالیٰ، دو متفاوت اور متباین چیزوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں عقل انسانی کو متنبہ کرتا ہے، جن کے درمیان عدم مساوات متحقق ہے۔ نیز آگاہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان عدم مساوات اس کی حکمت کا تقاضا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿اَفَ٘مَنْ كَانَ مُؤْمِنًا ﴾ ’’کیا وہ جو مؤمن ہو‘‘ یعنی جس کا قلب نور ایمان سے منور اور اس کے جوارح شریعت کے تابع ہیں، نیز اس کا ایمان اپنے آثار اور ان امور کو ترک کرنے کے موجب کا تقاضا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہیں جن کا وجود ایمان کے لیے ضرر رساں ہے۔ ﴿كَ٘مَنْ كَانَ فَاسِقًا ﴾ ’’اس کی مثل ہے جو فاسق ہے‘‘ جس کا قلب غیر آباد اور ایمان سے خالی ہے اس کے اندر کوئی دینی داعیہ موجود نہیں۔ اس لیے اس کے جوارح جلدی سے ظلم اور جہالت کے موجبات کی وجہ سے ہر قسم کے گناہ اور معصیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے فسق کے سبب سے اپنے رب کی اطاعت سے نکل جاتا ہے۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہو سکتے ہیں؟ ﴿لَا یَسْتَوٗنَ ﴾ عقلاً اور شرعاً کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ جس طرح دن اور رات، روشنی اور تاریکی برابر نہیں ہوتے اسی طرح قیامت کے روز مومن اور فاسق کا ثواب بھی برابر نہیں ہو گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 18 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاحزابالأحزاب

غلطی کی اطلاع دیں

مزید