السجدة

سجدہ

30 آیاتمکیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 24

    وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا۟ ۖ وَكَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا يُوقِنُونَ

    اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے، اور وه ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے.[1]

    حواشی

    [1] اس آیت سے صبر کی فضیلت واضح ہے۔ صبر کا مطلب ہے اللہ کے اوامر کے بجا لانے اور ترک زواجر میں اور اللہ کے رسولوں کی تصدیق اور ان کے اتباع میں جو تکلیفیں آئیں، انہیں خندہ پیشانی سے جھیلنا۔ اللہ نے فرمایا، ان کے صبر کرنے اور آیات الٰہی پر یقین رکھنے کی وجہ سے ہم نے ان کو دینی امامت اور پیشوائی کے منصب پر فائز کیا۔ لیکن جب انہوں نے اس کے برعکس تبدیل وتحریف کا ارتکاب شروع کر دیا، تو ان سے یہ مقام سلب کر لیا گیا۔ چنانچہ اس کے بعد ان کے دل سخت ہوگئے، پھر ان کا عمل صالح رہا اور نہ ان کا اعتقاد صحیح۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 24 کی تفسیر

    [24] ﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ ﴾ ’’اور ہم نے ان میں سے بنائے‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿اَىِٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا ﴾ ایسے علماء جو شریعت اور ہدایت کے راستوں کا علم رکھتے تھے۔ وہ خود ہدایت یافتہ تھے اور اس ہدایت کے ذریعے سے دوسروں کی راہنمائی کرتے تھے۔ جو کتاب ان کی طرف نازل کی گئی وہ سراسر ہدایت تھی اور اس پر ایمان رکھنے والے دو اقسام میں منقسم تھے: (۱) ائمہ، جو اللہ کے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔ (۲) جو ان ائمہ سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ پہلی قسم کے لوگ انبیاء و رسل کے بعد سب سے بلند درجے پر فائز ہیں اور یہ صدیقین کا درجہ ہے اور یہ بلند درجہ انھیں اس لیے حاصل ہوا کہ انھوں نے تعلیم و تعلم، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت اور اس کے راستے میں پیش آنے والی اذیتوں پر صبر کیا اور نفوس کو معاصی اور شہوات سے روکا۔ ﴿وَكَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ ﴾ اور وہ آیات الٰہی پر ایمان میں درجۂ یقین پر پہنچ چکے تھے۔ یقین سے مراد وہ علم تام ہے جو عمل کا موجب ہے۔ وہ درجۂ یقین پر اس لیے پہنچے کہ انھوں نے صحیح طریقے سے علم حاصل کیا اور ان دلائل کے ذریعے سے مسائل کو اخذ کیا جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں۔ وہ مسائل سیکھتے رہے اور کثرت دلائل سے ان پر استدلال کرتے رہے یہاں تک کہ وہ درجۂ یقین پر پہنچ گئے۔ پس صبر اور یقین کے ذریعے سے دین میں امامت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاحزابالأحزاب

غلطی کی اطلاع دیں

مزید