السجدة

سجدہ

30 آیاتمکیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 29

    قُلْ يَوْمَ ٱلْفَتْحِ لَا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِيمَـٰنُهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ

    جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان ﻻنا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی.[1]

    حواشی

    [1] اس یوم الفتح سے مراد آخرت کے فیصلے کا دن ہے، جہاں ایمان مقبول ہوگا اور نہ مہلت دی جائے گی۔ فتح مکہ کا دن مراد نہیں ہے کیونکہ اس دن تو طلقاء کا اسلام قبول کر لیا گیا تھا، جن کی تعداد تقریباً دو ہزار تھی۔ (ابن کثیر) طلقاء سے مراد، وہ اہل مکہ ہیں جن کو نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فتح مکہ والے دن، سزا وتعزیر کے بجائے معاف فرما دیا تھا اور یہ کہہ کر آزاد کر دیا تھا کہ آج تم سے تمہاری پچھلی ظالمانہ کاروائیوں کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ چنانچہ ان کی اکثریت مسلمان ہو گئی تھی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 29 کی تفسیر

    [29] ﴿قُ٘لْ یَوْمَ الْ٘فَ٘تْحِ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن‘‘ یعنی جس روز تمھیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمھیں ایمان حاصل ہو جائے تو تمھیں مہلت کا ملناممکن ہے تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کر لو کیونکہ یقینی طورپر معاملہ ابھی تک تمھارے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب فیصلے کا دن آئے گا تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا اور امتحان و ابتلا کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا، اس وقت ﴿لَا یَنْفَ٘عُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ ﴾ ’’کافروں کو ان کاایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔‘‘ کیونکہ اس ایمان کی حیثیت اضطراری ایمان کی سی ہو گی۔ ﴿وَلَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ ﴾ اور نہ ان کو کوئی مہلت دی جائے گی کہ عذاب کو مؤخر کر دیا جائے اور یہ اپنے معاملے کو سدھار لیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 29 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاحزابالأحزاب

غلطی کی اطلاع دیں

مزید