السجدة

سجدہ

30 آیاتمکیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِىٍّ وَلَا شَفِيعٍ ۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ

    اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا[1] ، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں[2]۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے.[3]

    حواشی

    [1] اس کے لئے دیکھئے سورۂ اعراف 54 کا حاشیہ۔ یہاں اس مضمون کو دہرانے سے مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت اور عجائب صنعت کے ذکر سے شاید وہ قرآن کو سنیں اور اس پر غور کریں۔ [2] یعنی وہاں کوئی ایسا دوست نہیں ہوگا، جو تمہاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ کے عذاب کو ٹال دے، نہ وہاں کوئی سفارشی ہی ایسا ہوگا جو تمہاری سفارش کر سکے۔ [3] یعنی اے غیر اللہ کے پجاریو اور دوسروں پر بھروسہ کرنے والو! کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 4 کی تفسیر

    [4] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ﴾ ’’وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا، حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ ﴿ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْ٘عَرْشِ ﴾ ’’پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔ ﴿مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں‘‘ جو تمھارے معاملات میں تمھاری سرپرستی کرے ﴿وَّلَا شَ٘فِیْعٍ ﴾ ’’اور نہ سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی اگرتمھیں سزا ملے تو وہ تمھاری سفارش کرے۔ ﴿اَفَلَا تَتَذَكَّـرُوْنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے‘‘ کہ تمھیں علم ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے، جو تمھاری تدبیر اور تمھاری سرپرستی میں یکتا ہے اور تمام تر شفاعت کا وہی مالک ہے، اس لیے عبادت کی تمام انواع کا وہی مستحق ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاحزابالأحزاب

غلطی کی اطلاع دیں

مزید