السجدة

سجدہ

30 آیاتمکیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 5

    يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُۥٓ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ

    وه آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے[1] ۔ پھر (وه کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازه تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے.[2]

    حواشی

    [1] آسمان سے، جہاں اللہ کا عرش اور لوح محفوظ ہے، اللہ تعالیٰ زمین پر احکام نازل فرماتا یعنی تدبیر کرتا اور زمین پر ان کا نفاذ ہوتا ہے۔ جیسے موت اور زندگی، صحت اور مرض، عطا اور منع، غنا اور فقر، جنگ اور صلح، عزت اور ذلت، وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر سے اپنی تقدیر کے مطابق یہ تدبیریں اور تصرفات کرتا ہے۔ [2] یعنی پھر اس کی یہ تدبیر یا امر اس کی طرف واپس لوٹتا ہے ایک ہی دن میں، جسےفرشتے لے کر جاتے ہیں اور صعود (چڑھنے) کا یا آنےجانے کا فاصلہ اتنا ہے کہ غیر فرشتہ ہزار سال میں طے کرے۔ یا اس سے قیامت کا دن مراد ہے کہ اس دن انسانوں کے سارے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ اس (یوم) کی تعیین وتفسیر میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ امام شوکانی نے 16،15 اقوال اس ضمن میں ذکر کیے ہیں اس لئے حضرت ابن عباس نے اس کے بارے میں توقف کو پسند فرمایا اور اس کی حقیقت کو اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔ صاحب ایسر التفاسیر کہتے ہیں کہ قرآن میں یہ تین مقامات پر آیا ہے اور تینوں جگہ الگ الگ دن مراد ہے۔ سورۂ حج (آیت۔ 47) میں ”یوم“ کا لفظ عبارت ہے اس زمانہ اور مدت سے جو اللہ کے ہاں ہے اور سورۂ معارج میں، جہاں یوم کی مقدار پچاس ہزار سال بتلائی گئی ہے، یوم حساب مراد ہے اور اس مقام (زیر بحث) میں یوم سے مراد دنیا کا آخری دن ہے، جب دنیا کے تمام معاملات فنا ہو کر اللہ کی طرف لوٹ جائیں گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 5 کی تفسیر

    [5] ﴿یُدَبِّرُ الْاَمْرَ ﴾ امر کونی و قدری اور امر دینی و شرعی کی تمام تدابیر وہ اکیلا ہی کرتا ہے اور تمام تدابیر قادر مطلق بادشاہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ﴿مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ﴾ ’’آسمان سے زمین کی طرف‘‘ پس وہ ان تدابیر کے ذریعے سے کسی کو سعادت مند بناتا ہے اور کسی کو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے، کسی کو دولت مند بنا دیتا ہے اور کسی کے نصیب میں فقروفاقہ لکھ دیتا ہے، کسی کو عزت سے نوازتا ہے اور کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی کو اکرام و تکریم سے بہرہ مند کرتا ہے اور کسی کے دامن میں رسوائی ڈال دیتا ہے، کچھ قوموں کو رفعت اور عروج سے سرفراز کرتا ہے اور کچھ قوموں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور وہی آسمانوں سے رزق نازل کرتا ہے۔ ﴿ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ ﴾ ’’ پھر وہ اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔‘‘ یعنی امر اس کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی طرف چڑھ جاتا ہے ﴿فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ﴾ ’’ایک روز میں جس کا اندازہ تمھارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا۔‘‘ یعنی یہ امرعروج کر کے، ایک لمحہ میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاحزابالأحزاب

غلطی کی اطلاع دیں

مزید