الأحزاب

احزاب

73 آیاتمدنیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 24

    لِّيَجْزِىَ ٱللَّهُ ٱلصَّـٰدِقِينَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ إِن شَآءَ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا

    تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور اگر چاہے تو منافقوں کو سزا دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے[1] ، اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ بہت ہی مہربان ہے.

    حواشی

    [1] یعنی انہیں قبول اسلام کی توفیق دے دے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 24 کی تفسیر

    [24] ﴿لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ هٰؔذَا یَوْمُ یَنْ٘فَ٘عُ الصّٰؔدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ﴾ (المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَیُعَذِّبَ الْ٘مُنٰفِقِیْنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنْ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔ اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِیْمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتسباسبأ

غلطی کی اطلاع دیں

مزید