الأحزاب

احزاب

73 آیاتمدنیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 27

    وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَـٰرَهُمْ وَأَمْوَٰلَهُمْ وَأَرْضًا لَّمْ تَطَـُٔوهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرًا

    اور اس نے تمہیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھر بار کا اور ان کے مال کا وارث کر دیا[1] اور اس زمین کا بھی جس کو تمہارے قدموں نے روندا نہیں[2]، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.

    حواشی

    [1] اس میں غزوۂ بنی قریظہ کا ذکر ہے جیسا کہ پہلے گزرا کہ اس قبیلے نے نقض عہد کرکے جنگ احزاب میں مشرکوں اور دوسرے یہودیوں کا ساتھ دیا تھا۔ چنانچہ جنگ احزاب سے واپس آکر رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ابھی غسل ہی فرما سکے تھے کہ حضرت جبرائیل (عليه السلام) آگئے اور کہا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ہتھیار رکھ دیے؟ ہم فرشتوں نے تو نہیں رکھے ہیں۔ چلئے، اب بنو قریظہ کے ساتھ نمٹنا ہے، مجھے اللہ نے اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی طرف بھیجا ہے۔ چنانچہ آپ نے مسلمانوں میں اعلان فرما دیا بلکہ ان کو تاکید کر دی کہ عصر کی نماز وہاں جا کر پڑھنی ہے۔ ان کی آبادی مدینے سے چند میل کے فاصلے پر تھی۔ یہ اپنے قلعوں میں بند ہو گئے، باہر سے مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کر لیا جو کم وبیش پچیس روز جاری رہا۔ بالآخر انہوں نے سعد بن معاذ (رضي الله عنه) کو اپنا حکم (ثالث) تسلیم کر لیا کہ وہ جو فیصلہ بابت دیں گے، ہمیں منظور ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان سے لڑنے والے لوگوں کو قتل اور بچوں، عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کا مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے یہ فیصلہ سن کر فرمایا کہ یہی فیصلہ آسمانوں کے اوپر االلہ تعالیٰ کا بھی ہے۔ اس کے مطابق ان کے جنگ جو افراد کی گردنیں اڑا دی گئیں۔ اور مدینے کو ان کے ناپاک وجود سے پاک کر دیا گیا۔ (دیکھئے صحیح بخاری، باب غزوۂ خندق) أَنْزَلَ قلعوں سے نیچے اتار دیا، ظَاهَرُوهُمْ کافروں کی انہوں نے مدد کی۔ [2] بعض نے اس سے خیبر کی زمین مراد لی ہے کیونکہ اس کے بعد ہی 6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں نے خیبر فتح کیا ہے۔ بعض نے کہا کہ مکہ ہے اور بعض نے ارض فارس وروم کو اس کا مصداق قرار دیا ہے اور بعض کے نزدیک تمام وہ زمینیں ہیں جو قیامت تک مسلمان فتح کریں گے۔ (فتح القدیر)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 27 کی تفسیر

    [27] ﴿وَاَوْرَثَؔكُمْ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرْضَهُمْ وَدِیَ٘ارَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَطَـُٔوْهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔ اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ e ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ e نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔ جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ e پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ e اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ e پر حملہ کرنے پر اکسایا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ e ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتسباسبأ

غلطی کی اطلاع دیں

مزید