الأحزاب

احزاب

73 آیاتمدنیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 3

    وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

    آپ اللہ ہی پر توکل رکھیں[1] ، وه کار سازی کے لئے کافی ہے.[2]

    حواشی

    [1] اپنے تمام معاملات اور احوال میں۔ [2] ان لوگوں کے لئے جو اس پر بھروسہ رکھتے، اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 3 کی تفسیر

    [3] اگر آپ کے دل میں یہ بات ہو کہ آپ نے ان کی گمراہ کن خواہشات نفس کی پیروی نہ کی تو آپ کو ان سے کوئی نقصان پہنچ جائے گا یا مخلوق کی ہدایت میں نقص واقع ہو جائے گا تو اس خیال کو اپنے دل سے نکال پھینکیے اور اللہ پر بھروسہ کیجیے۔ ان کے شر سے سلامتی اور اقامت دین میں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، اپنے رب پر اس شخص کی مانند اعتماد کیجیے جو اپنی ذات کے لیے کسی نفع کا مالک ہے نہ نقصان کا، جو موت پر اختیار رکھتا ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کر سکتا ہے، لہٰذا اس امر کے حصول کے بارے میں ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿وَكَ٘فٰى بِاللّٰهِ وَؔكِیْلًا﴾ ’’اور اللہ کافی کارساز ہے۔‘‘ اس لیے تمام معاملات کو اسی کے سپرد کر دیجیے وہ ان کا اس طریقہ سے انتظام کرے گا جو بندے کے لیے سب سے زیادہ درست ہو گا، پھر وہ ان مصالح کو اپنے بندے تک پہنچانے کی پوری قدرت رکھتا ہے جبکہ بندہ ان پر قادر نہیں، وہ اپنے بندے پر اس سے بھی کہیں زیادہ رحم کرتا ہے جتنا بندہ خود اپنے آپ پر رحم کر سکتا ہے یا اس پر اس کے والدین رحم کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے بندے پر ہر ایک سے زیادہ رحمت والا ہے خصوصاً اپنے خاص بندوں پر، جن پر ہمیشہ سے اس کی ربوبیت اور احسان کا فیضان جاری ہے اور جن کو اپنی ظاہری اور باطنی برکتوں سے سرفراز کیا ہے، خاص طور پر اس نے حکم دیا ہے کہ تمام امور اس کے سپرد کر دیے جائیں، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کی تدبیر کرے گا۔ تب آپ نہ پوچھیں کہ ہر معاملہ کیسے آسان ہوگا، مشکلات کیسے دور ہوں گی، مصائب کیسے ختم ہوں گے، تکلیفیں کیسے زائل ہوں گی، ضرورتیں اور حاجتیں کیسے پوری ہوں گی، برکتیں کیسے نازل ہوں گی، سزائیں کیسے ختم ہو ں گی اور شر کیسے اٹھا لیا جائے گا... یہاں آپ کمزور بندے کو دیکھیں گے جس نے اپنا تمام معاملہ اپنے آقا کے سپرد کر دیا، اس کے آقا نے اس کے معاملات کا اس طرح انتظام کیا کہ لوگوں کی ایک جماعت بھی اس کا انتظام نہ کر سکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے معاملات اس کے لیے نہایت آسان کر دیے جو بڑے بڑے طاقتور لوگوں کے لیے بھی نہایت مشکل تھے۔ وباللہ المستعان۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتسباسبأ

غلطی کی اطلاع دیں

مزید