الأحزاب

احزاب

73 آیاتمدنیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    مَّا جَعَلَ ٱللَّهُ لِرَجُلٍ مِّن قَلْبَيْنِ فِى جَوْفِهِۦ ۚ وَمَا جَعَلَ أَزْوَٰجَكُمُ ٱلَّـٰٓـِٔى تُظَـٰهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَـٰتِكُمْ ۚ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَآءَكُمْ أَبْنَآءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَٰهِكُمْ ۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِى ٱلسَّبِيلَ

    کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں رکھے[1] ، اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری (سچ مچ کی) مائیں نہیں[2] بنایا، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو (واقعی) تمہارے بیٹے بنایا ہے[3]، یہ تو تمہارے اپنے منھ کی باتیں ہیں[4]، اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے[5] اور وه (سیدھی) راه سجھاتا ہے.

    حواشی

    [1] بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک منافق یہ دعویٰ کرتا تھا کہ اس کے دو دل ہیں۔ ایک دل مسلمانوں کے ساتھ ہے اور دوسرا دل کفر اور کافروں کے ساتھ ہے۔ (مسند احمد ا / 267) یہ آیت اس کی تردید میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک دل میں اللہ کی محبت اور اس کے دشمنوں کی اطاعت جمع ہو جائے۔ بعض کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص جمیل بن معمر فہری تھا، جو بڑا ہشیار، مکار اور نہایت تیز طرار تھا، اس کا دعویٰ تھا کہ میرے تو دو دل ہیں جن سے میں سوچتا سمجھتا ہوں۔ جب کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) کا ایک ہی دل ہے۔ یہ آیت اس کے رد میں نازل ہوئی۔ (ایسر التفاسیر) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ آگے جو دو مسئلے بیان کیے جا رہے ہیں، یہ ان کی تمہید ہے یعنی جس طرح ایک شخص کے دو دل نہیں ہو سکتے، اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کر لے یعنی یہ کہہ دے کہ تیری پشت میرے لئے ایسے ہی ہے جیسے میری ماں کی پشت۔ تو اس طرح کہنے سے اس کی بیوی، اس کی ماں نہیں بن جائے گی۔ یوں اس کی دو مائیں نہیں ہو سکتیں۔ اسی طرح کوئی شخص کسی کو اپنا بیٹا (لے پالک) بنالے تو وہ اس کا حقیقی بیٹا نہیں بن جائے گا، بلکہ وہ بیٹا تو اپنے باپ ہی کا رہے گا، اس کے دو باپ نہیں ہو سکتے۔ (ابن کثیر)۔ [2] یہ مسئلۂ ظہار کہلاتا ہے، اس کی تفصیل سورۂ مجادلہ میں آئے گی۔ [3] اس کی تفصیل اسی سورت میں آگے چل کر آئے گی۔ أَدْعِياءُ، دَعِيٌّ کی جمع ہے۔ منہ بولا بیٹا۔ [4] یعنی کسی کو ماں کہہ دینے سے وہ ماں نہیں بن جائے گی، نہ بیٹا کہنے سے وہ بیٹا بن جائے گا، یعنی ان پر امومت اور بنوت کے شرعی احکام جاری نہیں ہوں گے۔ [5] اس لئے اس کا اتباع کرو اور ظہار والی عورت کو ماں اور لے پالک کو بیٹا مت کہو، خیال رہے کہہ کسی کو پیار اور محبت میں بیٹا کہنا اور بات ہے اور لے پالک کو حقیقی بیٹا تصور کرکے بیٹا کہنا اور بات ہے۔ پہلی بات جائز ہے، یہاں مقصود دوسری بات کی ممانعت ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 4 کی تفسیر

    [4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسے امور میں گفتگو نہ کریں جن کی کوئی حقیقت نہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں فرمایا جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔ یہ ان کی اپنی بات ہے جو جھوٹ اور باطل ہے، جس پر شرعی برائیاں مرتب ہوتی ہیں۔ یہ ہر معاملے میں گفتگو کرنے اور کسی چیز کے وقوع و وجود کے بارے میں، جسے اللہ تعالیٰ نے نہ کیا ہو، خبر دینے میں ایک عام قاعدہ ہے، مگر مذکورہ چیزوں کو ان کے کثرت و قوع اور ان کو بیان کرنے کی حاجت کی بنا پر مخصوص کیا ہے ، چنانچہ فرمایا: ﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ﴾ ’’اللہ نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے‘‘ یہ صورت کبھی نہیں پائی جاتی۔ پس کسی کے بارے میں یہ کہنے سے بچو کہ اس کے پہلو میں دو دل ہیں ورنہ تم تخلیق الٰہی کے بارے میں جھوٹ کے مرتکب بنو گے۔ ﴿وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔيْ تُ٘ظٰهِرُوْنَ ﴾ ’’اور (اللہ نے) نہیں بنایا تمھاری عورتوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو‘‘ یعنی تم میں سے کسی شخص کا اپنی بیوی سے یہ کہنا: ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ یا، جیسے میری ماں‘‘ تو نہیں بنایا اللہ تعالیٰ نے انھیں ﴿اُمَّهٰؔتِكُمْ ﴾ ’’تمھاری مائیں‘‘ تیری ماں تو وہ ہے جس نے تجھے جنم دیا، جو تیرے لیے تمام عورتوں سے بڑھ کر حرمت و تحریم کی حامل ہے اور تیری بیوی تیرے لیے سب سے زیادہ حلال عورت ہے، تب تو دو متناقض امور کو کیسے ایک دوسرے کے مشابہ قرار دے رہا ہے جبکہ یہ ہرگز جائز نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىِٕهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓـِٔيْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَاِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْؔكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ؔ﴾ (المجادلۃ:58؍2) ’’تم میں سے جو لوگ اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتے ہیں، وہ اس طرح ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا، بلاشبہ وہ ایک جھوٹی اور بری بات کہتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ۠ اَبْنَآءَكُمْ﴾ ’’اور تمھاری لے پالکوں کو تمھارے بیٹے نہیں بنایا۔‘‘ (اَدْعِیَاء) اس لڑکے کو کہتے ہیں جس کے بارے میں کوئی شخص اپنا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرے مگر وہ اس کا بیٹا نہ ہو یا اسے متبنیٰ ہونے کی وجہ سے بیٹا کہا جائے۔ جیسا کہ ایام جاہلیت اور اسلام کی ابتدا میں یہ رواج موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس رواج کو ختم کرنے کا ارادہ فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اس رواج کی برائی بیان کی اور واضح کیا کہ یہ باطل اور جھوٹ ہے۔ باطل اور جھوٹ کا اللہ تعالیٰ کی شریعت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کے بندے اس سے متصف ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے تمھارے منہ بولے بیٹوں کو، جن کو تم بیٹا کہتے ہو یا وہ تمھارا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں،تمھارا بیٹا نہیں بنایا۔ حقیقت میں تمھارے بیٹے وہ ہیں جو تم میں سے ہیں اور جن کو تم نے جنم دیا ہے اور رہے دوسرے لوگ جن کے بارے میں تم اپنے بیٹے ہونے کا دعویٰ کرتے ہو وہ تمھارے حقیقی بیٹوں کی مانند نہیں ہیں۔ ﴿ذٰلِكُمْ ﴾ یہ بات جو تم منہ بولے بیٹوں کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے، اس شخص کے لیے جو اس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، یا اس کا باپ فلاں ہے ﴿قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ ﴾ ’’تمھارے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘ یعنی یہ ایسی بات ہے کہ جس کی کوئی حقیقت ہے نہ معنی۔ ﴿وَاللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ﴾ ’’اور اللہ حق بات کہتا ہے۔‘‘ یعنی جو صداقت اور یقین پر مبنی ہے اس لیے اس نے تمھیں اس کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ اس کا قول حق اور اس کی شریعت حق ہے، تمام باطل اقوال و افعال کسی بھی لحاظ سے اس کی طرف منسوب نہیں کیے جاسکتے اور نہ اس کی ہدایت سے ان کا کوئی تعلق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو صرف صراط مستقیم اور صدق کے طریقوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اگر یہ اس کی مشیت کے مطابق واقع ہوا ہے تو اس کی مشیت اس کائنات میں جو بھی خیروشر موجود ہے، سب کے لیے عام ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتسباسبأ

غلطی کی اطلاع دیں

مزید