الأحزاب

احزاب

73 آیاتمدنیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 46

    وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ بِإِذْنِهِۦ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا

    اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے واﻻ اور روشن چراغ.[1]

    حواشی

    [1] جس طرح چراغ سے اندھیرے دور ہوجاتے ہیں، اسی طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) کے ذریعے سے کفروشرک کی تاریکیاں دور ہوئیں۔ علاوہ ازیں اس چراغ سے کسب ضیا کرکے جو کمال وسعادت حاصل کرنا چاہے، کرسکتا ہے۔ اس لئے کہ یہ چراغ قیامت تک روشن ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 46 کی تفسیر

    [46] (۴) ﴿دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ آپ مخلوق کو ان کے رب کی طرف دعوت دیں، ان میں اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا شوق پیدا کریں اور ان کو اس کی عبادت کا حکم دیں جس کے لیے ان کو تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ چیز ان امور پر استقامت کا تقاضا کرتی ہے جس کی دعوت دی گئی ہے اور یہ چیز ان کے اپنے رب کی، اس کی صفات مقدسہ کے ذریعے سے معرفت اور جو صفات اس کے جلال کے لائق نہیں ان صفات سے اس کی ذات مقدس کی تنزیہ جیسے امور کی تفاصیل کا تذ کرہ ہے جن کی طرف انھیں دعوت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عبودیت کی مختلف انواع کا ذکر کیا، قریب ترین راستے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا، ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرنا، دعوت الیٰ اللہ اپنے نفس کی تعظیم کے لیے نہ ہو بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جیسا کہ اس مقام پر بہت سے نفوس کو کبھی کبھی یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔ (۵) ﴿سِرَاجًا مُّنِیْرًا ﴾ ’’روشن چراغ‘‘ یہ لفظ دلالت کرتا ہے کہ تمام مخلوق بہت بڑی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں روشنی کی کوئی کرن نہ تھی جس سے راہ نمائی حاصل کی جا سکتی، نہ کوئی علم تھا کہ اس جہالت میں کوئی دلیل مل سکتی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کریمe کو مبعوث فرمایا، آپ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تاریکیوں کا پردہ چاک کر دیا، آپ کے ذریعے سے جہالتوں کے اندھیروں میں علم کی روشنی پھیلائی اور آپ کے ذریعے سے گمراہوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔ پس اہل استقامت کے لیے راستہ واضح ہو گیا اور وہ اس راہنما(e)کے پیچھے چل پڑے۔ انھوں نے اس کے ذریعے سے خیروشر، اہل سعادت اور اہل شقاوت کو پہچان لیا۔ انھوں اپنے رب کی معرفت کے لیے اس سے روشنی حاصل کی اور انھوں نے اپنے رب کو اس کے اوصاف حمیدہ، افعال سدیدہ اور احکام رشیدہ کے ذریعے سے پہچان لیا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 46 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتسباسبأ

غلطی کی اطلاع دیں

مزید