الأحزاب

احزاب

73 آیاتمدنیپارہ 21

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 5

    ٱدْعُوهُمْ لِـَٔابَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَآ أَخْطَأْتُم بِهِۦ وَلَـٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

    لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی[1] ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وه تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں[2]، تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناه نہیں[3]، البتہ گناه وه ہے جس کا تم اراده دل سے کرو[4]۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ مہربان ہے.

    حواشی

    [1] اس حکم سے اس رواج کی ممانعت کر دی گئی جو زمانۂ جاہلیت سے چلا آرہا تھا اور ابتدائے اسلام میں بھی رائج تھا کہ لے پالک بیٹوں کو حقیقی بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ صحابہ کرام (رضي الله عنهم) بیان فرماتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ ! کو (جنہیں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ) نے آزاد کرکے بیٹا بنا لیا تھا) زید بن محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) کہہ کر پکارﺗے تھے، حتیٰ کہ قرآن کریم کی آیت ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ نازل ہوگئی۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورۃ الاحزاب) اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابو حذیفہ ! کے گھر میں بھی ایک مسئلہ پیدا ہو گیا، جنہوں نے سالم کو بیٹا بنایا ہوا تھا جب منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹا سمجھنے سے روک دیا گیا تو اس سے پردہ کرنا ضروری ہوگیا نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت ابو حذیفہ ! کی بیوی کو کہا کہ اسےدودھ پلا کر اپنا رضاعی بیٹا بنالو کیونکہ اس طرح تم اس پر حرام ہو جاؤ گی۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ (صحيح مسلم، كتاب الرضاع، باب رضاعة الكبير ، أبو داود، كتاب النكاح، باب فيمن حرم به)۔ [2] یعنی جن کے حقیقی باپوں کا علم ہے، اب دوسری نسبت ختم کرکے انہیں کی طرف انہیں منسوب کرو، البتہ جن کے باپوں کا علم نہ ہو سکے تو تم انہیں اپنا بھائی اور دوست سمجھو، بیٹا مت سمجھو۔ [3] اس لئے کہ خطا ونسیان معاف ہے، جیسا کہ حدیث میں بھی صراحت ہے۔ [4] یعنی جو جان بوجھ کر غلط انتساب کرے گا، وہ سخت گناہ گار ہوگا۔ حدیث میں آتاہے۔ جس نے جانتے بوجھتے اپنے کو غیر باپ کی طرف منسوب کیا۔ اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ (صحيح بخاري، كتاب المناقب ، باب ، نسبة اليمن إلى إسماعيل عليه السلام)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 5 کی تفسیر

    [5] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ حکم دیا کہ پہلی صورت کو ترک کیا جائے جو قول باطل کو متضمن ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿اُدْعُوْهُمْ ﴾ ’’ان کو پکارو‘‘ یعنی اپنے منہ بولے بیٹوں کو ﴿لِاٰبَآىِٕهِمْ ﴾ ان کے حقیقی باپوں سے منسوب کرتے ہوئے جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ ﴿هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ ﴾ یہ زیادہ قرین عدل، زیادہ درست اور ہدایت کے زیادہ قریب ہے۔ ﴿فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ ﴾ ’’پس اگر تم ان کے (حقیقی) باپوں کو نہیں جانتے‘‘ ﴿فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْكُمْ ﴾ تو وہ اللہ کے دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے موالی ہیں۔ تم انھیں اخوت ایمانی اور موالات اسلام کی نسبت سے پکارو۔ جس شخص نے ان کو متبنیٰ بنایا ہے اس کے لیے اس دعویٰ کو ترک کرنا حتمی ہے۔ یہ دعویٰ جائز نہیں۔ رہا ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارنا، تو اگر ان کا نام معلوم ہو تو ان کی طرف منسوب کر کے پکارو اور اگر ان کا نام معلوم نہ ہو تو صرف اسی پر اکتفا کرو جو معلوم ہے اور وہ ہے اخوت دینی اور موالات اسلامی۔ یہ نہ سمجھو کہ ان کے باپوں کے ناموں کے بارے میں عدم علم اس بات کے لیے عذر ہے کہ تم ان کو متبنیٰ بنانے والوں کی طرف منسوب کر کے پکارو، کیونکہ اس عذر سے حرمت زائل نہیں ہو سکتی۔ ﴿وَلَ٘یْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ﴾ ’’اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ یعنی اگر تم میں سے کوئی غلطی سے اس کو کسی شخص کی طرف منسوب کر کے پکارے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں یا ظاہری طور پر اس کے باپ کا نام معلوم ہے اور تم اس کو اسی کی طرف پکارتے ہو حالانکہ وہ باطن میں اس کا باپ نہیں ہے، تب اس میں کوئی حرج نہیں جبکہ یہ غلطی سے ہو۔ ﴿وَلٰكِنْ ﴾ ’’مگر‘‘ وہ صرف اس چیز میں تمھارا مواخذہ کرتا ہے ﴿مَّا تَعَمَّدَتْ قُ٘لُوْبُكُمْ ﴾ ’’جس کا تمھارے دلوں نے عمدًا ارتکاب کیا ہے۔‘‘ جو تم نے جان بوجھ کرنا جائز بات کہی ہو۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَ٘فُوْرًا رَّحِیْمًا ﴾ اس نے تمھیں بخش دیا اور تمھیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیا کیونکہ اس نے تمھیں تمھارے سابقہ گناہوں پر سزا نہیں دی، تم نے جو غلطی کی اس پر درگزر کیا اور شرعی احکام بیان کرکے تم پر رحم کیا جن میں تمھارے دین اور دنیا کی اصلاح ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتسباسبأ

غلطی کی اطلاع دیں

مزید