اے نبی! ہم نے تیرے لئے تیری وه بیویاں حلال کر دی ہیں جنہوں تو ان کا مہر دے چکا ہے[1] اور وه لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں[2] اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خاﻻؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے[3]، اور وه باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کردے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے[4]، یہ خاص طور پر صرف تیرے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں[5]، ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں[6]، یہ اس لئے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے اور بڑے رحم واﻻ ہے.
حواشی
[1] بعض احکام شرعیہ میں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو امیتاز حاصل تھا، جنہیں آپ (صلى الله عليه وسلم) کی خصوصیات کہا جاتا ہے۔ مثلاً اہل علم کی ایک جماعت کے بقول قیام اللیل (تہجد) آپ (صلى الله عليه وسلم) پر فرض تھا، صدقہ آپ (صلى الله عليه وسلم) پر حرام تھا، اسی طرح کی بعض خصوصیات کا ذکر قرآن کریم کے اس مقام پر کیا گیا ہے جن کا تعلق نکاح سے ہے۔ 1 . جن عورتوں کو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے مہر دیا ہے، وہ حلال ہیں چاہے تعداد میں وہ کتنی ہی ہوں اور آپ (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت صفیہ (رضی الله عنها) اور جویریہ (رضی الله عنها) کا مہر ان کی آزادی کو قرار دیا تھا، ان کے علاوہ بصورت نقد سب کو مہر ادا کیا تھا۔ صرف ام حبیبہ (رضی الله عنها) کا مہر نجاشی نے اپنی طرف سے دیا تھا۔
[2] چنانچہ حضرت صفیہ (رضی الله عنها) اور جویریہ (رضی الله عنها) ملکیت میں آئیں جنہیں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے آزاد کرکے نکاح کرلیا، اور ریحانہ (رضی الله عنها) اور ماریہ قبطیہ (رضی الله عنها) یہ بطور لونڈی آپ کےپاس رہیں۔
[3] اس کا مطلب ہے کہ جس طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ہجرت کی، اسی طرح انہوں نے بھی مکے سے مدینہ ہجرت کی۔ کیونکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے ساتھ تو کسی عورت نے بھی ہجرت نہیں کی تھی۔
[4] یعنی اپنے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو ہبہ کرنے والی عورت، اگر آپ (صلى الله عليه وسلم) اس سے نکاح کرنا پسند فرمائیں تو بغیر مہر کے آپ (صلى الله عليه وسلم) کے لئے اسے اپنے نکاح میں رکھنا جائزہے۔
[5] یہ اجازت صرف آپ (صلى الله عليه وسلم) کے لئے ہے۔ دیگر مومنوں کے لئے تو ضروری ہے کہ وہ حق مہر، ادا کریں، تب نکاح جائز ہوگا۔
[6] یعنی عقد کے جو شرائط اور حقوق ہیں جو ہم نے فرض کئے ہیں کہ مثلاً چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت کوئی شخص اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا، نکاح کے لئے ولی، گواہ اور حق مہر ضروری ہے۔ البتہ لونڈیاں جتنی کوئی چاہے، رکھ سکتا ہے، تاہم آج کل لونڈیوں کا مسئلہ تو ختم ہے۔
تفسیر سعدی (اردو)
آیات 50 کی تفسیر
[50] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (e)پر اپنے احسانات کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ پر کچھ ایسی چیزیں حلال ٹھہرائیں جو مومنوں کے لیے بھی حلال ہیں اور کچھ چیزیں ایسی بھی حلال ٹھہرائیں جو صرف آپ کے لیے مختص ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّـاۤ٘ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ ﴾ ’’اے نبی! ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنھیں ان کا اجر دے چکاہے۔‘‘ یعنی آپ نے جن بیویوں کو مہر عطا کر دیا ہے۔ یہ ان امور میں شمار ہوتا ہے جو نبیe اور دیگر اہل ایمان کے درمیان مشترک ہیں، کیونکہ اہل ایمان کے لیے بھی ان کی وہی بیویاں مباح ہیں جن کو انھوں نے حق مہر ادا کر دیا ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح ہم نے آپ کے لیے مباح کر دیں ﴿مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ ﴾ وہ لونڈیاں جو آپ کی ملکیت ہیں۔ ﴿مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ ﴾ ’’ان لونڈیوں میں سے جو اللہ نے تمھیں مال غنیمت سے عطا کی ہیں۔‘‘ یعنی کفار کے مال غنیمت میں جو غلام یا آزاد عورتیں ہاتھ لگیں اور ان عورتوں کے خواہ خاوند ہوں یا نہ ہوں وہ مباح ہیں۔ یہ بھی نبیe اور اہل ایمان کے درمیان مشترک ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مشترک ہے: ﴿وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰؔتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰؔلٰ٘تِكَ ﴾ ’’اور تمھارے چچوں کی بیٹیاں اور تمھاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمھارے ماموؤ ں کی بیٹیاں اور تمھاری خالاؤ ں کی بیٹیاں۔‘‘ اس میں قریب اور دور کے چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ، سب شامل ہیں۔ یہ مباح عورتوں کا حصر ہے۔ اس سے مفہوم مخالف یہ اخذ کیا گیا کہ ان اقارب کے علاوہ دیگر اقارب مباح نہیں ہیں جیسا کہ سورۃالنساء میں گزر چکا ہے۔
پس مذکورہ بالا ان چار رشتہ دار عورتوں کے سوا کوئی رشتہ دار عورت مباح نہیں خواہ وہ فروع میں سے ہوں یا اصول میں سے، باپ اور ماں کی فروع میں سے خواہ کتنا ہی نیچے چلے جائیں اور ان سے اوپر کی فروع اپنے صلب کی بنا پر۔ اس لیے کہ وہ مباح نہیں۔ ﴿الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ ﴾ ’’جو آپ کے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں۔‘‘ رسول اللہ e کے لیے مذکورہ بالا عورتوں کی حلت اس قید سے مقید ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں منقول دو اقوال میں سے یہی قول قرین صواب ہے۔ آپ کے سوا دیگر اہل ایمان کے لیے یہ قید صحیح نہیں۔
﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم نے آپ کے لیے حلال کردیا ﴿امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ ﴾ ’’مومن عورت کو بھی جو اپنانفس نبی کو ہبہ کردے۔‘‘ اس کے اپنا نفس ہبہ کر دینے ہی سے ﴿اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا۠﴾ ’’اگر نبی(e) بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں۔‘‘ یہ آپ کے ارادہ اور رغبت پر منحصر ہے۔ ﴿خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ ’’یہ خاص آپ ہی کے لیے ہے مومنوں کے لیے نہیں۔‘‘ یعنی یہ ہبہ کی اباحت دیگر مومنوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسی عورت کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوں جو اپنے آپ کو ان کے لیے ہبہ کردیتی ہے۔
﴿قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ﴾ یعنی ہم خوب جانتے ہیں کہ اہل ایمان پر کیا واجب ہے، ان کے لیے بیویوں اور لونڈیوں میں سے کیا حلال ہے اور کیا حلال نہیں ہے اور اس حلت و حرمت کے بارے میں ہم نے ان کو آگاہ بھی کر دیا ہے اور اس کے فرائض بھی واضح کر دیے ہیں۔
اس آیت کریمہ میں جو احکامات دوسرے لوگوں کے مخالف ہیں، وہ آپ کے لیے خاص ہیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی اکرم e کو مخاطب کیا ہے۔ فرمایا: ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّـاۤ٘ اَحْلَلْنَا لَكَ ﴾ ’’اے نبی! ہم نے آپ کے لیے حلال کی ہیں…‘‘ نیز فرمایا: ﴿خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ یعنی اے نبی! ہم نے آپ کے لیے ایسی چیزیں مباح کی ہیں جو دوسروں کے لیے مباح نہیں کیں اور آپ کو جو وسعت عطا کی ہے وہ دوسروں کو عطا نہیں کی ﴿لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ ﴾ ’’تاکہ آپ پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر عنایت خاص ہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ﴾ ’’اور اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ سے مغفرت اور رحمت کی صفات سے متصف ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اپنی حکمت اور ان کی طرف سے عمل کے اسباب کے مطابق، اپنی مغفرت و رحمت اور اپنا جود و احسان نازل کرتا ہے۔