پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے[1] ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں[2]، اور رشتے دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیاده حق دار ہیں[3] (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو[4]۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے.[5]
حواشی
[1] نبی (صلى الله عليه وسلم) اپنی امت کے لئے جتنے شفیق اور خیر خواہ تھے، محتاج وضاحت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اس شفقت اور خیر خواہی کو دیکھتے ہوئے اس آیت میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کو مومنوں کے اپنے نفسوں سے بھی زیادہ حق دار، آپ (صلى الله عليه وسلم) کی محبت کو دیگر تمام محبتوں سے فائق تر اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کے حکم کو اپنی تمام خواہشات سے اہم تر قرار دیا ہے۔ اس لئے مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) ان کے جن مالوں کا مطالبہ۔ اللہ کے لئے کریں، وہ آپ (صلى الله عليه وسلم) پر نچھاور کر دیں چاہے انہیں خود کتنی ہی ضرورت ہو، آپ (صلى الله عليه وسلم) سے اپنے نفسوں سے بھی زیادہ محبت کریں۔ (جیسے حضرت عمر ! کا واقعہ ہے) آپ (صلى الله عليه وسلم) کے حکم کو سب پر مقدم اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت کو سب سے اہم سمجھیں۔ جب تک یہ خود سپردگی نہیں ہوگی «فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ» (النساء: 65) کے مطابق آدمی مومن نہیں ہوگا۔ اسی طرح جب تک آپ کی محبت تمام محبتوں پر غالب نہیں ہوگی «لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِه».. کی رو سے مومن نہیں، ٹھیک اسی طرح اطاعت رسول (صلى الله عليه وسلم) میں کوتاہی بھی «لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ ..» کا مصداق بنا دے گی۔
[2] یعنی احترام وتکریم میں اور ان سے نکاح نہ کرنے میں۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مائیں بھی ہیں۔
[3] یعنی اب مہاجرت، اخوت اور موالات کی وجہ سے وراثت نہیں ہوگی۔ اب وراثت صرف قریبی رشتہ کی بنیاد پر ہوگی۔
[4] ہاں تم غیر رشتے داروں کے لئے احسان اور بر وصلہ کا معاملہ کر سکتے ہو، نیز ان کے لئے ایک تہائی مال میں سے وصیت بھی کر سکتے ہو۔
[5] یعنی لوح محفوظ میں اصل حکم یہی ہے، گو عارضی طور پر مصلحتاً دوسروں کو بھی وارث قرار دے دیا گیا تھا، لیکن اللہ کے علم میں تھا کہ یہ منسوخ کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اسے منسوخ کرکے پہلا حکم بحال کر دیا گیا ہے۔
تفسیر سعدی (اردو)
آیات 6 کی تفسیر
[6] اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایک ایسی خبر بیان کرتا ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول مصطفیe کے احوال اور آپ کے مرتبے کو پہچان سکتے ہیں تاکہ وہ اس حال اور مرتبہ کے مطابق آپ کے ساتھ معاملہ کریں، چنانچہ فرمایا ﴿اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ ﴾ ’’نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی انسان کے لیے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ پس رسول اللہ e مومن کے لیے خود اس کی ذات پر بھی مقدم ہیں کیونکہ آپ e ان کی خیرخواہی کرتے ہیں، ان کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں۔ مخلوق میں سب سے بڑھ کر رحیم اور سب سے زیادہ مہربان ہیں۔ ان پر مخلوق میں سب سے زیادہ رسول اللہ e کا احسان ہے کیونکہ انھیں اگر ذرہ بھر بھلائی حاصل ہوئی ہے یا ان سے کوئی ذرہ بھر برائی دور ہوئی ہے تو آپ کے ہاتھ سے اور آپ کے سبب سے ہوئی ہے۔
اس لیے جب کبھی اس کے نفس کی مراد یا کسی اور شخص کی مراد، رسول اللہ e کی مراد سے متعارض ہو تو اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ رسول اللہ e کی مراد کو مقدم رکھیں۔ رسول اللہ e کے قول سے، کسی شخص کے قول کا، خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو، مقابلہ نہ کریں، آپ e پر اپنی جان، مال اور اولاد کو فدا کر دیں، آپ کی محبت کو تمام مخلوق کی محبت پر مقدم رکھیں، جب تک کہ آپ بول نہ لیں، ہرگز نہ بولیں، اور آپ سے آگے نہ بڑھیں۔
رسول مصطفیe، مومنوں کے باپ ہیں، جیسا کہ بعض صحابہ کرام yکی قراء ت میں پڑھا گیا ہے، آپ اہل ایمان کی اسی طرح تربیت کرتے ہیں جس طرح باپ اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے۔
اب اس باپ ہونے پر یہ اصول مترتب ہوتا ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہیں۔ یعنی حرمت، احترام اور اکرام کے اعتبار سے نہ کہ خلوت و محرمیت کے اعتبار سے۔ گویا یہ زید بن حارثہw کے قصے کا مقدمہ ہے جو کہ عنقریب آئے گا، زید بن حارثہw اس سے پہلے ’’زید بن محمد‘‘ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَ٘اۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ ﴾ (الاحزاب:33؍40) ’’محمد (e) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نسب اور آپ کی طرف انتساب دونوں منقطع کر دیے۔ اس آیت کریمہ میں آگاہ فرما دیا کہ تمام اہل ایمان، رسول (e)کی اولاد ہیں۔ کسی کو کسی دوسرے پر کوئی اختصاص حاصل نہیں۔ اگرچہ کسی کا منہ بولا بیٹا ہونے کا انتساب منقطع ہو گیا مگر نسب ایمانی منقطع نہیں ہوا اس لیے اسے غمزدہ اور متاسف نہیں ہونا چاہیے۔
اس آیت کریمہ سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ e کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہیں ، لہٰذا آپ کے بعد وہ کسی کے لیے حلال نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں صراحت فرما دی ہے: ﴿وَلَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا ﴾ (الاحزاب:33؍53) ’’اور نہ تمھارے لیے یہ جائز ہے کہ تم کبھی بھی آپ(e) کی بیویوں کے ساتھ نکاح کرو۔‘‘
﴿وَاُولُوا الْاَرْحَامِ ﴾ یعنی رشتہ دار، خواہ وہ قریب کے رشتہ دار ہوں یا دور کے رشتہ دار۔ ﴿بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’آپس میں کتاب اللہ کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے۔ پس وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کریں گے۔ قرابت کا تعلق دوستی اور حلف وغیرہ کے تعلق سے بڑھ کر ہے۔ اس آیت کریمہ سے پہلے، ان اسباب کی بنا پر رشتہ داروں کی بجائے منہ بولے بیٹے وارث بنتے تھے، اس آیت کریمہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس توارث کو منقطع کر دیا۔ اپنے لطف و کرم اور حکمت کی بنا پر حقیقی اقارب کو وارث بنا دیا کیونکہ اگر معاملہ سابقہ عادت اور رواج کے مطابق چلتا رہتا تو شر اور فساد پھیل جاتا اور قریب کے رشتہ داروں کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے حیلہ سازی بکثرت رواج پا جاتی۔
﴿مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْ٘مُهٰؔجِرِیْنَ ﴾ خواہ یہ قریبی رشتہ مومن اور مہاجر ہوں یا غیر مہاجر ہوں، بہر حال رشتہ دار مقدم ہیں۔ یہ آیت کریمہ تمام معاملات میں قریبی رشتہ داروں کی ولایت پر دلیل ہے، مثلاً: نکاح اور مال وغیرہ کی ولایت ﴿اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓؔىِٕكُمْ۠ مَّعْرُوْفًا ﴾ ’’مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔‘‘ یعنی ان کا کوئی مقرر شدہ حق نہیں ہے یہ صرف تمھارے ارادے پر منحصر ہے۔ اگر تم ان کو نیکی کے طور پر کوئی عطیہ دینا چاہو تو دے دو۔ ﴿كَانَ ذٰلِكَ ﴾ یہ حکم مذکور ﴿ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا ﴾ کتاب میں لکھ دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو مقدم کر دیا ہے، لہٰذا اس کا نفاذ لازمی ہے۔