سبأ

سبا

54 آیاتمکیپارہ 22

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 33

    وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ بَلْ مَكْرُ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَآ أَن نَّكْفُرَ بِٱللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُۥٓ أَندَادًا ۚ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ وَجَعَلْنَا ٱلْأَغْلَـٰلَ فِىٓ أَعْنَاقِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

    (اس کے جواب میں) یہ کمزور لوگ ان متکبروں سے کہیں گے، (نہیں نہیں) بلکہ دن رات مکروفریب سے ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے شریک مقرر کرنے کا تمہارا حکم دینا ہماری بےایمانی کا باعﺚ ہوا[1] ، اور عذاب کو دیکھتے ہی سب کے سب دل میں پشیمان ہو رہے ہوں گے[2]، اور کافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈال دیں گے[3] انہیں صرف ان کے کئے کرائے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا.[4]

    حواشی

    [1] یعنی ہم مجرم تو تب ہوتے، جب ہم اپنی مرضی سے پیغمبروں کی تکذیب کرتے، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ تم رات دن ہمیں گمراہ کرنے پر اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کا شریک ٹھہرانے پر آمادہ کرتے رہے، جس سے بالآخر ہم تمہارے پیچھے لگ کر ایمان سے محروم رہے۔ [2] یعنی ایک دوسرے پر الزام تراشی تو کریں گے لیکن دل میں دونوں ہی فریق اپنے اپنے کفر پر شرمندہ ہوں گے۔ لیکن شماتت اعدا کی وجہ سے ظاہر کرنے سے گریز کریں گے۔ [3] یعنی ایسی زنجیریں جو ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھیں گی۔ [4] یعنی دونوں کو ان کے عملوں کی سزا ملے گی، لیڈروں کو ان کے مطابق، اور ان کے پیچھے چلنے والوں کو ان کے مطابق، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا «لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لا تَعْلَمُونَ» (الأعراف: 38) یعنی ”ہر ایک کو دگنا عذاب ہوگا“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 33 کی تفسیر

    [33] ﴿وَقَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَالنَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ۠ اَنْ نَّ٘ـكْ٘فُ٘رَ بِاللّٰهِ وَنَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا ﴾ ’’اور کمزور لوگ تکبر کرنے والے لوگوں سے کہیں گے، بلکہ تم رات دن مکر وفریب کرتے رہتے تھے جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا انکار کریں اور اس کے لیے شریک ٹھرائیں۔‘‘ یعنی تم نے جو دن رات سازشیں کیں اور تم نے ہمارے ساتھ مکروفریب کیا اور اس مکروفریب سے ہم پر گمراہی کو مسلط کیا، تم ہمارے سامنے کفر کو مزین کیا کرتے تھے ، پھر اس کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ تم اس کے بارے میں دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ حق ہے اور حق میں جرح و قدح کر کے اس کی قدر گھٹایا کرتے تھے اور بزعم خود حق کو باطل قرار دیا کرتے تھے۔ تم ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے یہاں تک کہ تم نے ہمیں گمراہ کر کے فتنے میں مبتلا کر دیا۔ آپس میں ان کی یہ گفتگو اس کے سوا انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی کہ وہ ایک دوسرے سے بیزاری اور سخت ندامت کا اظہار کریں گے، اس لیے فرمایا: ﴿وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ﴾ ’’اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔‘‘ یعنی اس حجت کا تاروپود بکھر جائے گا جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے پر حجت قائم کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ وہ ظالم ہیں اور عذاب کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ہر مجرم بے حد پشیمان ہو گا اور وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ حق پر ہوتا اور اس نے باطل کو چھوڑ دیا ہوتا جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ اپنے جرائم کا اقرار کر لینے کی فضیحت کا خوف ان پر چھا جائے گا۔ قیامت کے بعض مواقف پر اور جہنم میں داخل ہوتے وقت، وہ بآواز بلند اپنی ندامت کا اظہار کریں گے: ﴿وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّؔخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا۰۰ یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّؔخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا ﴾ (الفرقان:25/27-28) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش! میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَ٘سْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰؔبِ السَّعِیْرِ۰۰ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰؔبِ السَّعِیْرِ ﴾ (الملک : 67 ؍10۔11) ’’وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم اصحاب جہنم میں شامل نہ ہوتے، وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے۔ پس جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔‘‘ ﴿وَجَعَلْنَا الْاَغْ٘لٰ٘لَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ﴾ ’’اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ان کو بیڑیاں پہنائی جائیں گی جیسے اس قیدی کو پہنا دی جاتی ہیں جس کی قید میں اہانت مقصود ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِذِ الْاَغْ٘لٰ٘لُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ۰۰ فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ﴾ (المؤمن:40؍71۔72) ’’جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں پہنا دی جائیں گی، پھر انھیں کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ ﴿هَلْ یُجْزَوْنَ ﴾ یہ عذاب اور یہ سزا جو انھیں دی گئی ہے اور یہ بوجھل طوق جو انھیں پہنائے گئے ہیں ﴿اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴾ صرف ان اعمال کی پاداش میں ہے جن کا وہ کفر، فسق اور نافرمانی کرکے ارتکاب کیا کرتے تھے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 33 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفاطرفاطر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید