سبأ

سبا

54 آیاتمکیپارہ 22

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 42

    فَٱلْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَلَا ضَرًّا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ

    پس آج تم میں سے کوئی (بھی) کسی کے لئے (بھی کسی قسم کے) نفع نقصان کا مالک نہ ہوگا[1] ۔ اور ہم ﻇالموں[2] سے کہہ دیں گے کہ اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے رہے.

    حواشی

    [1] یعنی دنیا میں تم یہ سمجھ کر ان کی عبادت کرتے تھے کہ یہ تمہیں فائدہ پہنچائیں گے، تمہاری سفارش کریں گے اور اللہ کے عذاب سے تمہیں نجات دلوائیں گے۔ جیسے آج بھی پیرپرستوں اور قبرپرستوں کا حال ہے لیکن، آج دیکھ لو کہ یہ لوگ کسی بات پر قادر نہیں۔ [2] ظالموں سے مراد، غیر اللہ کے پجاری ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور مشرکین سب سے بڑے ظالم۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 42 کی تفسیر

    [42] جب فرشتے ان کے شرک اور عبادت سے بیزاری کا اعلان کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو کر فرمائے گا: ﴿فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّلَا ضَرًّا ﴾ ’’پس آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تمھارے درمیان تمام تعلقات منقطع ہو گئے ہیں اور تم ایک دوسرے سے کٹ گئے ہو۔ ﴿وَنَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﴾ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا، ہم انھیں جہنم میں داخل کرنے کے بعد ان سے کہیں گے: ﴿ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ ﴾ ’’دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔‘‘ آج تم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور تم اپنی تکذیب کی پاداش میں اس جہنم میں داخل ہو چکے، نیز اس کی وجہ یہ تھی کہ تم نے ان اسباب سے اجتناب نہ کیا جو جہنم میں داخلے کے موجب تھے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 42 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفاطرفاطر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید