سبأ

سبا

54 آیاتمکیپارہ 22

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 52

    وَقَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍۭ بَعِيدٍ

    اس وقت کہیں گے کہ ہم اس قرآن پر ایمان ﻻئے لیکن اس قدر دور جگہ سے (مطلوب چیز) کیسے ہاتھ [1] آسکتی ہے.

    حواشی

    [1] تَنَاوُشٌ کے معنی تناول یعنی پکڑنے کے ہیں یعنی اب آخرت میں انہیں ایمان کس طرح حاصل ہوسکتا ہے جب کہ دنیا میں اس سے گریز کرتے رہے گویا آخرت ایمان کے لئے، دنیا کےمقابلے میں دور کی جگہ ہے، جس طرح دور سےکسی چیز کو پکڑنا ممکن نہیں، آخرت میں ایمان لانے کی گنجائش نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 52 کی تفسیر

    [52] ﴿وَّقَالُوْۤا ﴾ ’’اور وہ پکار اٹھیں گے‘‘ اسی حالت میں، کہ ﴿اٰمَنَّا ﴾ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اللہ تعالیٰ پر اور ان امور کی تصدیق کی جن کو ہم جھٹلایا کرتے تھے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ٘ ﴾ ’’اب انھیں (حصول ایمان) کہاں سے میسر ہوگا‘‘ ﴿مِنْ مَّكَانٍۭؔ بَعِیْدٍ﴾ ’’اتنے دور کے مقام سے‘‘ اب ان کے درمیان اور ان کے ایمان کے درمیان بڑے فاصلے حائل ہو گئے ہیں اور اس حال میں ایمان محال ہو گیا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 52 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفاطرفاطر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید