سبأ

سبا

54 آیاتمکیپارہ 22

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 6

    وَيَرَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ ٱلْحَقَّ وَيَهْدِىٓ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ

    اور جنہیں علم ہے وه دیکھ لیں گے کہ جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے وه (سراسر) حق ہے[1] اور اللہ غالب خوبیوں والے کی راه کی رہبری کرتا ہے.[2]

    حواشی

    [1] یہاں رویت سے مراد رویت قلبی یعنی علم یقینی ہے، محض رویت بصری (آنکھ کا دیکھنا) نہیں۔ اہل علم سے مراد صحابہ کرام (رضي الله عنهم) ، یا مومنین اہل کتاب یا تمام ہی مومنین ہیں یعنی اہل ایمان اس بات کو جانتے اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔ [2] یہ عطف ہےحق پر، یعنی وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس اللہ کا راستہ ہے جو کائنات میں سب پر غالب ہے اور اپنی مخلوق میں محمود (قابل تعریف) ہے۔ اور وہ راستہ کیا ہے؟ توحید کا راستہ جس کی طرف تمام انبیا علیہم السلام اپنی اپنی قوموں کو دعوت دیتے رہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 6 کی تفسیر

    [6] جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے منکرین قیامت کے انکار کا اور ان کی اس رائے کا تذکرہ فرمایا کہ جو کچھ رسول پر نازل ہوا ہے حق نہیں ہے، تو اس کے اپنے مومن بندوں کا حال بیان کیا ہے جو اہل علم ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول e پر، جو کتاب نازل کی ہے اور جن اخبار پر یہ کتاب مشتمل ہے، وہ برحق ہیں یعنی حق صرف اسی کے اندر ہے اور جو چیز اس کتاب کی مخالف اور اس سے متناقض ہے وہ باطل ہے، کیونکہ وہ علم کے درجۂ یقین پر پہنچ چکے ہیں ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اوامر و نواہی کے ذریعے سے ﴿یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْ٘عَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ﴾ ’’اس ہستی کی راہ دکھاتا ہے جو غالب اور لائق حمد و ثنا ہے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں بہت سے پہلوؤ ں سے اس کی دی ہوئی خبروں کی صداقت کا یقین جازم ہے۔ m اپنے علم کی جہت سے، خبر دینے والے کی صداقت کا یقین ہے۔ m انھیں اس جہت سے بھی اس کی صداقت کا یقین ہے کہ یہ کتاب امور واقع اور کتب سابقہ کی موافقت کرتی ہے۔ m اس پہلو سے بھی ان کے ہاں یہ کتاب حق ہے کہ وہ اس کی دی ہوئی خبروں کے وقوع کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ m اس جہت سے بھی انھیں اس کتاب کی صداقت کا یقین ہے کہ وہ آفاق میں اور خود اپنے نفوس میں ایسی نشانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ m اس جہت سے بھی انھیں اس کتاب کے حق پر مبنی ہونے کا یقین ہے کہ آفاق و انفس کی نشانیاں ان امور کی موافقت کرتی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اوامر و نواہی کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے راستے پر گامزن کرتے ہیں، جو بالکل سیدھا ہے اور وہ کام کی ہر اس صفت کو متضمن ہے جو تزکیہ نفس اور اجر میں اضافے کا باعث ہے، جو عامل اور اس کے علاوہ دیگر لوگوں کو صدق و اخلاص، والدین کے ساتھ حسن سلوک، اقارب کے ساتھ صلہ رحمی اور مخلوقات پر احسان کرنے کافائدہ پہنچتاتی ہے اور ہر بری صفت سے روکتی ہے جو نفس کو گندہ کرتی ہے، اجر کو اکارت کرتی ہے، گناہ اور بوجھ کی موجب ہے ، مثلاً: شرک، زنا، سود اور جان، مال اور عزت و ناموس پر ظلم وغیرہ۔ یہ اہل علم کی منقبت، ان کی فضیلت اور ان کی امتیازی علامت ہے نیز اس بات کی بھی علامت ہے کہ جب بھی بندے کا علم زیادہ ہو گا، رسول (e)کی لائی ہوئی خبروں کی تصدیق کرتا ہو گا، اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کی حکمتوں کی جتنی زیادہ معرفت رکھنے والا ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ ان اہل علم کے زمرے میں شمار ہو گا جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہe کی لائی ہوئی باتوں پر حجت قرار دیا ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندینِ حق کے خلاف حجت کے طور پر پیش کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ اور بعض دیگر آیات میں اس کی طرف اشارہ ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفاطرفاطر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید