فاطر

فاطر

45 آیاتمکیپارہ 22

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 11

    وَٱللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَٰجًا ۚ وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِۦ ۚ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِۦٓ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌ

    لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا ہے[1] ، پھر تمہیں جوڑے جوڑے (مرد وعورت) بنا دیا ہے، عورتوں کو حاملہ ہونا اور بچوں کا تولد ہونا سب اس کے علم سے ہی ہے[2]، اور جو بڑی عمر واﻻ عمر دیا جائے اور جس کی عمر گھٹے وه سب کتاب میں لکھا ہوا ہے[3]۔ اللہ تعالیٰ پر یہ بات بالکل آسان ہے.

    حواشی

    [1] یعنی تمہارے باپ آدم (عليه السلام) کو مٹی سے اور پھر اس کے بعد تمہاری نسل کو قائم رکھنے کے لئے انسان کی تخلیق کو نطفے سے وابستہ کردیا، جومرد کی پشت سے نکل کر عورت کے رحم میں جاتا ہے۔ [2] یعنی اس سے کوئی چیز مخفی نہیں، حتیٰ کہ زمین پر گرنے والے پتے اور زمین کی تاریکیوں میں نشوونما پانے والے بیج کو بھی وہ جانتا ہے۔ (الأنعام: 59)۔ [3] اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر کی طوالت اور اس کی تقصیر (کم ہونا) اللہ کی تقدیر وقضا سے ہے۔ علاوہ ازیں اس کے اسباب بھی ہیں جس سے عمر لمبی یا چھوٹی ہوتی ہے، طوالت کے اسباب میں صلۂ رحمی وغیرہ ہے، جیسا کہ احادیث میں ہے اور تقصیر کے اسباب سے معاصی کا ارتکاب ہے۔ مثلاً کسی آدمی کی عمر 70 سال ہے لیکن کبھی اسباب زیادت کی وجہ سے اللہ اس میں اضافہ فرما دیتا ہے اور کبھی اس میں کمی کردیتا ہے جب وہ اسباب نقصان اختیار کرتا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس نے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اس لئے عمر میں یہ کمی بیشی «فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلا يَسْتَقْدِمُونَ» کے منافی نہیں ہے۔ اس کی تائید اللہ کے اس قول سے بھی ہوتی ہے «يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» (سورة الرعد: 39) ”جو چاہتا ہے، مٹاتا اور ثبت کرتا ہے اور اس کے پاس لوح محفوظ ہے“۔ (فتح القدیر)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 11 کی تفسیر

    [11] اللہ تبارک وتعالیٰ آدمی کی تخلیق یعنی مٹی سے لے کر نطفے اور بعد کے مراحل میں اس کے منتقل ہونے کا تذکرہ فرماتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتا رہا حتیٰ کہ تم مرد اور عورت نکاح کے مرحلے میں داخل ہو گئے یہاں نکاح اور ازدواج سے مراد اولاد اور ذریت ہے۔ نکاح اگرچہ حصول اولاد کا سبب ہے، تاہم یہ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر اور اس کے علم سے مقرون ہے۔ ﴿وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَلَا تَ٘ضَ٘عُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ﴾ ’’جو بھی مادہ حاملہ ہوتی ہے یا بچہ جنتی ہے تو اللہ کو اس کاعلم ہوتا ہے۔‘‘ اسی طرح آدمی کی تخلیق کے مختلف ادوار اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قضا وقدر سے مقرون ہیں۔ ﴿وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّلَا یُنْقَ٘صُ مِنْ عُمُرِهٖۤ﴾ ’’اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے نہ کسی کی عمر کم کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی جس شخص کو طویل عمر عطا کی گئی ہو تو اس کی عمر میں کمی نہیں کی جاتی ﴿اِلَّا ﴾ ’’مگر‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے یا کسی ایسے یا انسان کی عمر میں جو کمی کی گئی ہو جو اس کی طوالت کے درپے رہتا اگر وہ کوتاہ عمری کے اسباب کو اختیار نہ کرتا، مثلاً: زنا، والدین کی نافرمانی اور قطع رحمی وغیرہ، جن کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ عمر کے کم ہونے کے اسباب ہیں اور معنی یہ ہے کہ عمر کا طویل یا کم ہونا، کسی سبب کی بنا پر ہو یا کسی سبب کے بغیر سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ﴿فِیْؔ كِتٰبٍ ﴾ ’’ایک کتاب میں‘‘ درج کر رکھا ہے۔ بندے کے تمام ایام حیات اور اس کے تمام اوقات میں اس کے ساتھ جو کچھ گزرتا ہے، سب اس کتاب میں درج ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ ﴾ ’’بلاشبہ یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔‘‘ یعنی ان بے شمار معلومات اور اس بارے میں کتاب کا احاطہ بہت آسان ہے۔ یہ تین دلائل جو زندگی بعد موت پر دلالت کرتے ہیں، سب عقلی دلائل ہیں، جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اشارہ کیا ہے۔ (۱) زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرنا۔ (۲) وہ ہستی جس نے زمین کو حیات نو بخشی، وہ مردوں کو بھی زندہ کرے گی۔ (۳) انسان کا ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہونا۔ وہ اللہ جو اسے وجود میں لایا، جس نے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں اور ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل کیا یہاں تک کہ اس مقام پر پہنچ گیا جو اس کے لیے مقدر تھا، اس اللہ کے لیے اس کی زندگی کا اعادہ کرنا اور دوسری تخلیق عطا کرنا آسان تر ہے۔ اس کے علم نے تمام عالم علوی اور عالم سفلی کا، ہر چھوٹی یا بڑی چیز کا جو دلوں میں چھپی ہوئی ہے، ان بچوں کا جو ماؤ ں کے پیٹ میں ہیں اور عمروں کے زیادہ ہونے یا کم ہونے کا احاطہ کر رکھا ہے اور یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ پس وہ اللہ جس کے لیے یہ سب کچھ اتنا آسان ہے اس کے لیے مردوں کو دوبارہ زندگی بخشنا آسان سے آسان تر ہے۔ پس نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کی بھلائیاں ان گنت ہیں۔ اس نے اپنے بندوں کے لیے ان تمام امور کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں ان کی معاش و معاد کی بھلائی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیسيس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید