فاطر

فاطر

45 آیاتمکیپارہ 22

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 19

    وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ

    اور اندھا اور آنکھوں واﻻ برابر نہیں.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 19 - 23 کی تفسیر

    [23-19] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو جو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا: ﴿وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى ﴾ ’’اور نہیں ہے برابر اندھا‘‘ جس کی بینائی نہیں ﴿وَالْبَصِیْرُۙ۰۰ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوْرُۙ۰۰ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُوْرُۚ۰۰ وَمَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ﴾ ’’اور دیکھنے والا، نہ اندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ تمھارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شبہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمھیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیاء میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔ پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ برابر ہیں، نہ عالم اور جاہل برابر ہیں، نہ اہل جنت اور اہل جہنم برابر ہیں، نہ زندہ دل اور مردہ دل برابر ہیں۔ ان مذکورہ اشیاء کے درمیان اتنا فرق اور اس قدر تفاوت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب تمام اشیاء کے مراتب معلوم ہو گئے اور ان کے درمیان امتیاز واقع ہو گیا اور وہ اشیاء اپنی اضداد میں سے واضح ہو گئیں جن کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تو ایک دوراندیش اور عقل مند شخص کو اپنے لیے وہی چیز منتخب کرنی چاہیے جو بہتر اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے سنوادیتا ہے۔‘‘ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ ﴾ ’’اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔‘‘ یعنی جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کا بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانااور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔ ﴿اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ﴾’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ ‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 19 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیسيس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید