فاطر

فاطر

45 آیاتمکیپارہ 22

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 2

    مَّا يَفْتَحِ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۖ وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُۥ مِنۢ بَعْدِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

    اللہ تعالیٰ جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے واﻻ نہیں اور جس کو بند کردے سو اس کے بعد اس کا کوئی جاری کرنے واﻻ نہیں[1] اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے.

    حواشی

    [1] ان ہی نعمتوں میں سے ارسال رسل اور انزال کتب بھی ہے۔ یعنی ہر چیز کا دینے والا بھی وہی ہے، اور واپس لینے یا روک لینے والا بھی وہی۔ اس کے سوا نہ کوئی معطی اور منعم ہے اور نہ مانع وقابض۔ جس طرح نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) فرمایا کرتے تھے۔ ”اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 2 کی تفسیر

    [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ تدبیر کائنات، عطا کرنے اور محروم کرنے میں وہی اکیلا اختیار کا مالک ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿مَا یَفْ٘تَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اپنی رحمت لوگوں کے لیے کھول دے تو کوئی اسے بند کرنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے۔‘‘ یعنی اگر وہ ان کو اپنی رحمت سے محروم کر دے ﴿فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ﴾ ’’تو اس کے بعد کوئی اسے کھولنے والا نہیں۔‘‘ اس لیے یہ چیز اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور ہر لحاظ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنے کی موجب ہے، نیز یہ اس چیز کی بھی موجب ہے کہ صرف اسی کو پکارا جائے، صرف اسی سے ڈرا جائے اور صرف اسی سے امید رکھی جائے۔ ﴿وَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ ﴾ اور وہ تمام چیزوں پر غالب ہے ﴿الْحَكِیْمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہر چیزکو اس کے مناسب حال منزل و مقام پر نازل کرتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیسيس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید