فاطر

فاطر

45 آیاتمکیپارہ 22

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 6

    إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَٱتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ۚ إِنَّمَا يَدْعُوا۟ حِزْبَهُۥ لِيَكُونُوا۟ مِنْ أَصْحَـٰبِ ٱلسَّعِيرِ

    یاد رکھو! شیطان تمہارا دشمن ہے، تم اسے دشمن جانو[1] وه تو اپنے گروه کو صرف اس لئے ہی بلاتا ہے کہ وه سب جہنم واصل ہو جائیں.

    حواشی

    [1] یعنی اس سے سخت عداوت رکھو، اس کے دجل وفریب اور ہتکنڈوں سے بچو، جس طرح دشمن سے بچاؤ کے لئے انسان کرتا ہے۔ دوسرے مقام پر اسی مضمون کو اس طرح ادا کیا گیا ہے۔«أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلا» (الكهف: 50) ”کیا تم اس شیطان اور اس کی ذریت کو، مجھے چھوڑ کر، اپنا دوست بناتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ظالموں کے لئے برا بدلہ ہے“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 5 - 6 کی تفسیر

    [5، 6] ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اے لوگو! بے شک اللہ کا وعدہ‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ ﴿حَقٌّ ﴾ ’’حق ہے۔‘‘ یعنی اس میں شک و شبہ اور کوئی تردد نہیں، اس پر تمام دلائلِ نقلیہ اور براہین عقلیہ دلالت کرتے ہیں۔ جب اس کا وعدہ سچا ہے تو اس کے لیے تیاری کرو اپنے اچھے اوقات میں نیک اعمال کی طرف سبقت کرو کوئی راہزن تمھاری راہ کو کھوٹی نہ کرنے پائے۔ ﴿فَلَا تَغُرَّنَّـكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا ﴾ ’’لہٰذا دنیاوی زندگی تمھیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے‘‘ اپنی لذات و شہوات اور اپنے نفسانی مطالبات کے ذریعے سے تمھیں ان مقاصد سے غافل نہ کر دے جن کے لیے تمھیں تخلیق کیا گیا ہے۔ ﴿وَلَا یَغُرَّنَّـكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ ﴾ ’’اور نہ فریب دینے والا تمھیں فریب دے۔‘‘ جو کہ ﴿الشَّ٘یْطٰنَ ﴾ ’’شیطان ہے۔‘‘ وہ حقیقت میں تمھارا دشمن ہے ﴿فَاتَّؔخِذُوْهُ عَدُوًّا ﴾ ’’لہٰذا تم بھی اُسے دشمن جانو‘‘ یعنی تمھاری طرف سے اس کے لیے دشمنی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ جنگ میں کسی بھی وقت ڈھیلے نہ پڑو۔ وہ تمھیں دیکھتا ہے، تم اسے نہیں دیکھ سکتے، وہ ہمیشہ تمھاری گھات میں رہتا ہے۔ ﴿اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰؔبِ السَّعِیْرِ﴾ ’’بلاشبہ وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں ہوں۔‘‘ یہی اس کی غرض و غایت اور مطلوب و مقصود ہے کہ اس کی اتباع کرنے والوں کی سخت عذاب کے ذریعے سے رسوائی ہو۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیسيس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید