الصافات

صافات

182 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 11

    فَٱسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَآ ۚ إِنَّا خَلَقْنَـٰهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍۭ

    ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا (ان کا) جنہیں ہم نے (ان کے علاوه) پیدا کیا[1] ؟ ہم نے (انسانوں) کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے.[2]

    حواشی

    [1] یعنی ہم نےجو زمین، ملائکہ اور آسمان جیسی چیزیں بنائی ہیں جو اپنے حجم اور وسعت کے لحاظ سے نہایت انوکھی ہیں۔ کیا ان لوگوں کی پیدائش اور دوبارہ ان کو زندہ کرنا، ان چیزوں کی تخلیق سےزیادہ سخت اور مشکل ہے؟ یقیناً نہیں۔ [2] یعنی ان کے باپ آدم (عليه السلام) کو تو ہم نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ انسان آخرت کی زندگی کو اتنا مستبعد کیوں سمجھتے ہیں دراں حالیکہ ان کی پیدائش ایک نہایت ہی حقیر اور کمزور چیز سے ہوئی ہے۔ جب کہ خلقت میں ان سے زیادہ قوی، عظیم اور کامل واتم چیزوں کی پیدائش کا ان کو انکار نہیں۔ (فتح القدیر)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 11 کی تفسیر

    [11] اللہ تعالیٰ نے ان عظیم مخلوقات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿فَاسْتَفْتِهِمْ ﴾ اپنے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرنے والوں سے پوچھیے۔ ﴿اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا ﴾ ’’کیا ان کا پیدا کرنا مشکل ہے۔‘‘ یعنی ان کی موت کے بعد دوبارہ انھیں زندہ کرنا مشکل اور مشقت والا ہے ﴿اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا ﴾ یا ان مخلوقات کو وجود میں لانا مشکل ہے جن کو ہم نے تخلیق کیا۔انھیں اقرار کرنا پڑے گا کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، لوگوں کی تخلیق سے زیادہ مشکل ہے۔ تب ان پر حیات بعدالموت کا اقرار لازم آئے گا بلکہ اگر وہ اپنے آپ پر غور کریں تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ چکنی مٹی سے ان کی تخلیق کی ابتدا، موت کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ ﴾ ’’ہم نے انھیں چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا۔‘‘ یعنی طاقتور اور سخت مٹی سے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ﴾ (الحجر: 15؍26) ’’ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گاڑے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید