الصافات

صافات

182 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 123

    وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ

    بے شک الیاس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھے[1]

    حواشی

    [1] یہ حضرت ہارون (عليه السلام) کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے۔ یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں اس جگہ کا نام سامرہ ہے جوفلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے۔(بعض کہتے ہیں یہ دیوی کا نام تھا)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 123 - 132 کی تفسیر

    [132-123] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔ ﴿فَكَذَّبُوْهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكْنَا عَلَیْهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِی الْاٰخِرِیْنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰ٘مٌ عَلٰۤى اِلْ یَ٘اسِیْنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 123 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید