الصافات

صافات

182 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 166

    وَإِنَّا لَنَحْنُ ٱلْمُسَبِّحُونَ

    اور اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] مطلب یہ ہے کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق اور اس کے خاص بندے ہیں جو ہر وقت اللہ کی عبادت میں اور اس کی تسبیح وتقدیس میں مصروف رہتے ہیں، نہ کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 164 - 166 کی تفسیر

    [166-164] یہ فرشتوں کے بارے میں کفار کی بہتان طرازی سے براء ت کا بیان ہے، نیز یہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اس کی نافرمانی نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک کو ایک مقام اور کسی تدبیر کی ذمہ داری سونپی ہے وہ اس سے تجاوز کر سکتے ہیں نہ انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ ﴿وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ﴾ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور خدمت میں صف آرا ہوتے ہیں۔ ﴿وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ۠ ﴾ ’’اور بے شک ہم پاکی بیان کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ کی ہر ایسے وصف سے جو اس کی کبریائی کے لائق نہیں۔ بایں ہمہ ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکین کے بہتان سے بلندوبالاتر ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 166 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید