الصافات

صافات

182 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 35

    إِنَّهُمْ كَانُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ

    یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی دنیا میں، جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جس طرح مسلمانوں نے یہ کلمہ پڑھ کر شرک ومعصیت سے توبہ کر لی ہے، تم بھی یہ پڑھ لو، تاکہ تم دنیا میں بھی مسلمان کے قہر وغضب سےبچ جاؤ اور آخرت میں بھی عذاب الٰہی سے تمہیں دوچار ہونا نہ پڑے، تو وہ تکبر کرتے اور انکار کرتے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے۔ «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَه إِلا اللهُ ، فَمَنْ قَالَ (لا إِلَه إِلا اللهُ) فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ» (متفق عليه ، مشكاة، كتاب الإيمان بحواله ابن كثير) ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں۔ جس نے یہ اقرار کر لیا، اس نے اپنی جان اور مال کی حفاظت کر لی“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 35 - 36 کی تفسیر

    [35، 36] پھر اس بات کاتذکرہ کیا کہ ان کے جرائم تمام حدیں پھلانگ گئے تھے، اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’بے شک یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں‘‘ انھیں اس کلمہ کی طرف بلایا جاتا اور انھیں اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو چھوڑنے کا کہاجاتا تو ﴿یَسْتَكْبِرُوْنَ۠﴾ وہ اس دعوت اور اس کو پیش کرنے والے کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے۔ ﴿وَیَقُوْلُوْنَ ﴾ اور اس کلمۂ حق کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿اَىِٕنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں‘‘ جن کی ہم اور ہمارے آباء و اجداد عبادت کرتے رہے ہیں ﴿لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ﴾ ’’ایک مجنون شاعر کی وجہ سے‘‘ اس سے وہ رسول اللہ e مراد لیتے تھے... اللہ ان کا برا کرے... انھوں نے صرف آپe سے روگردانی اور مجرد آپ کی تکذیب ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے آپ پر بدترین حکم لگایا جو سب سے بڑے ظلم پر مبنی ہے۔ انھوں نے آپ کو مجنون شاعر قرار دیا حالانکہ انھیں خوب علم تھا کہ آپ شاعری جانتے ہیں نہ شعراء سے کوئی واسطہ رکھتے ہیں اور نہ ان کی طرح شاعری کے کبھی اوصاف بیان کیے ہیں اور انھیں یہ بھی علم ہے کہ آپ e اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور سب سے زیادہ عظیم رائے کے حامل ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 35 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید