الصافات

صافات

182 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    إِنَّ إِلَـٰهَكُمْ لَوَٰحِدٌ

    یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے.[1]

    حواشی

    [1] صَافَّاتٌ، زَاجِرَاتٌ، تَالِياتٌ فرشتوں کی صفات ہیں۔ آسمانوں پر اللہ کی عبادت کے لئے صف باندھنے والے، یا اللہ کے حکم کے انتظار میں صف بستہ، وعظ ونصیحت کے ذریعے سے لوگوں کوڈانٹنے والے یا بادلوں کو، جہاں اللہ کا حکم ہو، وہاں ہانک کر لےجانے والے۔ اللہ کا ذکر یا قرآن کی تلاوت کرنے والے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے مضمون یہ بیان فرمایا کہ تمام انسانوں کا معبود ایک ہی ہے۔ متعدد نہیں، جیسا کہ مشرکین بنائےہوئے ہیں۔ عرف عام میں قسم تاکید اور شک دور کرنے کے لئےکھائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں قسم اسی شک کو دور کرنے کے لئےکھائی ہے جو مشرکین اس کی وحدانیت والوہیت کے بارے میں پھیلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر چیز اللہ کی مخلوق اور مملوک ہے، اس لئے وہ جس چیز کو بھی گواہ بنا کر اس کی قسم کھائے، اس کے لئے جائز ہے۔ لیکن انسانوں کےلئے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا بالکل ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ قسم میں، جس کی قسم کھائی جاتی ہے، اسے گواہ بنانا مقصود ہوتا ہے۔ اور گواہ اللہ کے سوا کوئی نہیں بن سکتا، کہ عالم الغیب صرف وہی ہے، اس کےسوا کوئی عالم الغیب نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 4 کی تفسیر

    [4-1] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادات میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنات کی تدبیر میں مصروف ہیں ، چنانچہ فرمایا: ﴿وَالصّٰؔٓ٘فّٰتِ صَفًّا﴾ ’’قسم ہے صف باندھنے والوں کی‘‘ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں۔ ﴿فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا﴾ ’’ پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر۔‘‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈانٹتے ہیں۔ ﴿فَالتّٰلِیٰؔتِ ذِكْرًا﴾ ’’ پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے ہیں اور ایک لمحہ کے لیے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت پر ان کی قسم کھائی ہے۔ ﴿اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ﴾ ’’یقینا تم سب کا معبودایک ہی ہے۔‘‘ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ،اس لیے خالص اسی سے محبت کرو، صرف اسی سے ڈرو، صرف اسی کو اپنی امیدوں کا محور بناؤ اور عبادات کی تمام اقسام صرف اسی کے لیے مختص کرو۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید