الصافات

صافات

182 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 63

    إِنَّا جَعَلْنَـٰهَا فِتْنَةً لِّلظَّـٰلِمِينَ

    جسے ہم نے ﻇالموں کے لئے سخت آزمائش بنا رکھا ہے.[1]

    حواشی

    [1] آزمائش، اس لئے کہ اس کا پھل کھانا بجائے خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ بعض نے اسے اس اعتبار سے آزمائش کہا کہ اس کے وجود کا انہوں نے انکار کیا کہ جہنم میں جب ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی تو وہاں درخت کس طرح موجود رہ سکتا ہے؟ یہاں ظالمین سے مراد وہ اہل جہنم ہیں جن پر جہنم واجب ہوگی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 63 - 66 کی تفسیر

    [66-63] اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ ﴾ ’’زقوم کا درخت ہم نے اس کو ’’فتنہ‘‘ بنارکھا ہے۔‘‘ یعنی عذاب اور سزا ﴿لِّلظّٰلِمِیْنَ ﴾ ’’واسطے ظالموں کے۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِ﴾ ’’بے شک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔‘‘ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے، پودا اگنے کی بدترین جگہ پودے کی خساست اور اس کے بدترین اوصاف پر دلالت کرتی ہے، بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس جگہ کا ذکر کر کے جہاں یہ پودا اگتا ہے اور اس کے پھل کا وصف بیان کر کے ہمیں اس کی برائی سے آگاہ فرمایا ہے۔ بے شک اس کا پھل ﴿رُءُ٘وْسُ الشَّیٰطِیْنِ ﴾ ’’شیطانوں کے سر‘‘ کی مانند ہے۔ پس اس کے ذائقے کے بارے میں مت پوچھ کہ یہ جہنمیوں کے پیٹ میں جا کر کیا ک[ے گا۔ وہ اس سے بچ سکیں گے نہ جان چھڑا سکیں گے، اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِــُٔـوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَ﴾ ’’پس وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔‘‘ یہ اہل جہنم کا کھانا ہے اور کتنا بدترین کھانا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 63 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید