الصافات

صافات

182 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 7

    وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَـٰنٍ مَّارِدٍ

    اور حفاﻇت کی سرکش شیطان سے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی آسمان دنیا پر، زینت کے علاوہ، ستاروں کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ سرکش شیاطین سے حفاظت ہو۔ چنانچہ شیطان آسمان پرکوئی بات سننے کے لئے جاتے ہیں تو ستارے ان پر ٹوٹ کر گرتے ہیں جس سے بالعموم شیطان جل جاتے ہیں۔ جیسا کہ اگلی آیات اور احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ ستاروں کا ایک تیسرا مقصد رات کی تاریکیوں میں رہنمائی بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر بیان فرمایا گیا ہے۔ ان مقاصد سہ گانہ کے علاوہ ستاروں کا اور کوئی مقصد بیان نہیں کیا گیا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 6 - 9 کی تفسیر

    [9-6] ﴿اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِنِ الْكَوَاكِبِۙ۰۰ وَحِفْظًا مِّنْ كُ٘لِّ شَ٘یْطٰ٘نٍ مَّارِدٍۚ ۰۰ لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى ﴾ ’’ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنا دیا ۔وہ عالم بالا کے فرشتوں کی باتیں سن ہی نہیں سکتے۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو عظیم فائدوں کے لیے ستاروں کا ذکر فرمایا ہے۔ (۱) آسمان کی زینت کے لیے۔ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان میں کوئی روشنی نہ ہوتی اور آسمان میں تاریکی چھائی رہتی۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ستاروں سے مزین کیا تاکہ وہ اپنے کناروں تک منور رہے اور وہ خوبصورت دکھائی دے اور بحروبر کی تاریکیوں میں ان کے ذریعے سے راستہ تلاش کیا جائے، نیز اس سے دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ (۲) تمام سرکش شیاطین سے حفاظت کے لیے۔ جو اپنی سرکشی کی بنا پر مَلَأِاَعْلٰی کی سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ (مَلَأِاَعْلٰی) سے مراد اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں۔ جب وہ مقرب فرشتوں سے سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو شہاب ثاقب مارے جاتے ہیں۔ ﴿مِنْ كُ٘لِّ جَانِبٍ﴾ یعنی ہر جانب سے انھیں دھتکارا جاتا ہے اور مقرب فرشتوں کی باتیں سننے سے ان کو دور رکھا جاتا ہے۔ ﴿وَّلَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ﴾ اور اپنے رب کی اطاعت سے سرکشی کی بنا پر ان کے لیے دائمی عذاب تیار کیا گیا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید