الصافات

صافات

182 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 73

    فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ

    اب تو دیکھ لے کہ جنہیں دھمکایا گیا تھا ان کا انجام کیسا کچھ ہوا.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 69 - 73 کی تفسیر

    [73-69] گویا یہ کہا گیا کہ کس چیز نے ان لوگوں کو جہنم میں پہنچایا؟ تو فرمایا: ﴿اِنَّهُمْ اَلْفَوْا ﴾ یعنی انھوں نے پایا ﴿اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْ٘نَ۰۰ فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰ٘رِهِمْ یُهْرَعُوْنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا، پس وہ ان ہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں۔‘‘ یعنی گمراہی میں تیزی سے دوڑے چلے جا رہے تھے۔ انھوں نے اس طرف التفات نہ کیا جس کی طرف انبیاء و مرسلین نے ان کو بلایا، نہ انھوں نے اس چیز کی طرف توجہ کی جس سے کتب الٰہیہ نے ان کو ڈرایا اور نہ انھوں نے خیر خواہی کرنے والوں کی خیرخواہی کو درخوراعتنا سمجھا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے یہ کہتے ہوئے ان کی مخالفت کی: ﴿اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰ٘رِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ ﴾ (الزخرف: 43؍23) ’’بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انھی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔‘‘ ﴿وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ ﴾ ’’اوران سے پیشتر بھی گمراہ ہوگئے۔‘‘ یعنی ان مخاطبین سے پہلے ﴿اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْ٘نَ﴾ ’’بہت سے پہلے‘‘ یعنی ان میں سے بہت کم لوگ تھے جو ایمان لائے اور انھوں نے راہ راست اختیار کی۔ ﴿وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان میں متنبہ کرنے والے بھیجے۔‘‘ جو ان کو ان کی بے راہ روی اور گمراہی پر ڈراتے تھے۔ ﴿فَانْ٘ظُ٘رْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ جن کو متنبہ کیا گیا تھا ان کا انجام کیا ہوا؟‘‘ ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کے سوا کچھ نہ تھا۔اس لیے ان مشرکین کو اپنی گمراہی پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے ورنہ انھیں بھی اس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا سامنا ان لوگوں کو کرنا پڑا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 73 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید