الصافات

صافات

182 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 91

    فَرَاغَ إِلَىٰٓ ءَالِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ

    آپ (چﭗ چپاتے) ان کے معبودوں کے پاس گئے اور فرمانے لگے تم کھاتے کیوں نہیں؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی جو حلویات بطور تبرک وہاں پڑی ہوئی تھیں، وہ انہیں کھانے کے لئے پیش کیں، جو ظاہر بات ہے انہیں نہ کھانی تھیں نہ کھائیں بلکہ وہ جواب دینے پر بھی قادر نہ تھے، اس لئے جواب بھی نہیں دیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 88 - 93 کی تفسیر

    [93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظْ٘رَةً فِی النُّجُوْمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا: ﴿اِنِّیْ سَقِیْمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِیْرُهُمْ هٰؔذَا ﴾ (الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘  ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ۰۰ مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ ﴾ ’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔ ﴿فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًـۢا بِالْیَمِیْنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 91 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید