الصافات

صافات

182 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 96

    وَٱللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ

    حاﻻنکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی وہ مورتیاں اور تصویریں بھی جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے اور انہیں معبود سمجھتے ہو، یا مطلق تمہارا عمل جو بھی تم کرتے ہو، ان کا خالق بھی اللہ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہی ہے، جیسا کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 94 - 96 کی تفسیر

    [96-94] ﴿فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنْ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَ٘مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ﴾ (الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا: ﴿سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُ﴾ (الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا: ﴿تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ ﴾ (الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا: ﴿ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِیْرُهُمْ هٰؔذَا فَسْـَٔلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ۰۰ فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّـكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ۰۰قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ۠ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْـًٔؔا وَّلَا یَضُرُّكُمْ﴾ (الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے: تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘ ﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 96 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصص

غلطی کی اطلاع دیں

مزید