الزمر

زمر

75 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 10

    قُلْ يَـٰعِبَادِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمْ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ فِى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى ٱلصَّـٰبِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ

    کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو[1] ، جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک بدلہ ہے[2] اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشاده ہے[3] صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے.[4]

    حواشی

    [1] اس کی اطاعت کرکے، معاصی سے اجتناب کرکے اور عبادت واطاعت کو اس کے لئے خالص کرکے۔ [2] یہ تقویٰ کے فوائد ہیں۔ نیک بدلے سے مراد جنت اور اس کی ابدی نعمتیں ہیں۔ بعض فِي هَذِهِ الدُّنْيَا کو حَسَنَةٌ سے متعلق مان کر ترجمہ کرتے ہیں جو نیکی کرتے ہیں، ان کے لئے دنیا میں نیک بدلہ ہے یعنی اللہ انہیں دنیا میں صحت وعافیت، کامیابی اور غنیمت وغیرہ عطا فرماتا ہے۔ لیکن پہلا مفہوم ہی زیادہ صحیح ہے۔ [3] یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اگر اپنے وطن میں ایمان وتقویٰ پر عمل مشکل ہو، تو وہاں رہنا پسندیدہ نہیں، بلکہ وہاں سے ہجرت اختیار کرکے ایسے علاقے میں چلا جانا چاہئیے جہاں انسان احکام الٰہی کے مطابق زندگی گزار سکے اور جہاں ایمان وتقویٰ کی راہ میں رکاوٹ نہ ہو۔ [4] اسی طرح ایمان وتقویٰ کی راہ میں مشکلات بھی ناگزیر اور شہوات ولذات نفس کی قربانی بھی لابدی ہے، جس کے لئے صبر کی ضرورت ہے۔ اس لئے صابرین کی فضیلت بھی بیان کر دی گئی ہے، کہ ان کو ان کے صبر کے بدلے میں اس طرح پورا پورا اجر دیا جائے گا کہ اسے حساب کے پیمانوں سے ناپنا ممکن ہی نہیں ہوگا۔ یعنی ان کا اجر غیر متناہی ہوگا۔ کیوں کہ جس چیز کا حساب ممکن ہو، اس کی تو ایک حد ہوتی ہے اور جس کی کوئی حد اور انتہا نہ ہو، وہ وہی ہوتی ہے جس کو شمار کرنا ممکن نہ ہو۔ صبر کی یہ وہ عظیم فضیلت ہے جو ہر مسلمان کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ اس لئے کہ جزع فزع اور بے صبری سے نازل شدہ مصیبت ٹل نہیں جاتی، جس خیر اور فائدے سے محرومی ہوگئی ہے، وہ حاصل نہیں ہو جاتا اور جو ناگوار صورت حال پیش آچکی ہوتی ہے، اس کا اندفاع ممکن نہیں۔ جب یہ بات ہے تو انسان صبر کرکے وہ اجر عظیم کیوں نہ حاصل کرے جو صابرین کے لئے اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 10 کی تفسیر

    [10] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اشرف المخلوقات یعنی اہل ایمان کو دینی امور میں سے سب سے بہتر چیز تقوی کا حکم دیتے ہوئے کہہ دیجیے اور ان کے سامنے اس سبب کا بھی ذکر کیجیے جو تقویٰ کا موجب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی نعمتوں کا اقرار، جو ان سے تقویٰ اختیار کرنے کا تقاضا کرتی ہیں اور ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا، جو تقویٰ کا موجب ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کسی سخی شخص سے کہیں ’’اے سخی! صدقہ کر‘‘ اور کسی بہادر شخص سے کہیں ’’اے بہادر لڑائی کر۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ثواب کا ذکر فرمایا جو دنیا میں ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰؔذِهِ الدُّنْیَا ﴾ ’’جنھوں نے اس دنیا میں نیکی کی‘‘ اپنے رب کی عبادت کے ذریعے سے تو ان کے لیے ﴿حَسَنَةٌ ﴾ ’’بھلائی‘‘ لامحدود رزق، نفس مطمئنہ اور انشراح قلب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً ﴾ (النحل: 16؍97) ’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو، ہم اسے نہایت پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔‘‘ ﴿وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ﴾ ’’اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔‘‘ یعنی اگر تمھیں زمین کے کسی خطے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو زمین کے کسی دوسرے خطے کی طرف ہجرت کر جاؤ جہاں تم اپنے رب کی عبادت کر سکو اور جہاں تمھارے لیے اقامت دین ممکن ہو۔جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰؔذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ ﴾ اور چونکہ یہ نص عام ہے… تو اس مقام پر بعض لوگوں کے لیے یہ کہنے کی مجال تھی کہ جو شخص بھی نیک کام کرے گا اس کے لیے دنیا میں بھلائی ہے، تو اس شخص کا کیا حال ہے جو کسی خطۂ زمین میں ایمان لایا بایں ہمہ وہ مظلوم اور محکوم و مجبور ہے اور وہ اس بھلائی سے محروم ہے؟ اس لیے اس گمان کا جواب ان الفاظ میں فرمایا: ﴿وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ﴾ ’’اور اللہ کی زمین بڑی فراخ ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے۔ حضرت نبی اکرم e نے بھی اس بشارت کو ان الفاظ میں منصوص فرمایا ’’میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، کسی کا ان سے علیحدہ ہونا اور مخالفت کرنا انھیں کوئی نقصان نہ دے سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے گا اور یہ گروہِ حق اسی نہج پر ہو گا۔‘‘ (صحیح البخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿انما قولنا لشئی اذا اردنٰہ﴾‘ ح:7460۔ وصحیح مسلم، الجہاد، باب قولہﷺ لاتزال طائفۃ من امتي…، ح: 1920۔) یہ آیت کریمہ اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس کی زمین بہت کشادہ ہے اس لیے جب کبھی بھی کسی جگہ تمھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو تم کسی دوسری جگہ ہجرت کر جاؤ ۔ ہر زمان و مکان میں یہ حکم عام ہے۔ تب لازم ٹھہرا کہ ہر ہجرت کرنے والے مومن کے لیے مسلمانوں کے اندر کوئی ٹھکانا ہو جہاں وہ پناہ لے سکے اور ایک جگہ ہو جہاں وہ اپنے دین کو قائم کر سکے۔ ﴿اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰؔبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ﴾ ’’جو صبر کرنے والے ہیں، انھیں بے شمار ثواب ملے گا۔‘‘ یہ آیت کریمہ صبر کی تمام انواع کے لیے عام ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر اس طرح صبر کرنا کہ اس میں ناراضی کا شائبہ نہ ہو، گناہ اور معاصی کے مقابلے میں صبر کرتے ہوئے ان کے ارتکاب سے بچنا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرتے ہوئے اس پر قائم رہنا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے صبر شعار لوگوں کے لیے بے حساب اجر کا وعدہ کیا ہے، یعنی کسی حد، تعداد اور مقدار کے بغیر۔ یہ صبر کی فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس موقع ومحل ہے اور بلاشبہ یہ ہر معاملے میں معین ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 10 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتغافرغافر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید