الزمر

زمر

75 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 18

    ٱلَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُۥٓ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَىٰهُمُ ٱللَّهُ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ

    جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو[1] اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں.[2]

    حواشی

    [1] أَحْسَنُ سے مراد محکم اور پختہ بات، یا مامورات میں سے سب سے اچھی بات، یا عزیمت ورخصت میں سے عزیمت یا عقوبت کے مقابلے میں عفو ودرگزر اختیار کرتے ہیں۔ [2] کیوں کہ انہوں نے اپنی عقل سے فائدہ اٹھایا ہے، جب کہ دوسروں نے اپنی عقلوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 18 کی تفسیر

    [18] جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان مومن بندوں کے لیے خوشخبری ہے تو اس نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ ان کو خوشخبری دے دیں اور وہ وصف بھی ذکر کر دیا جس کی بنا پر وہ بشارت کے مستحق قرار پائے ہیں۔ ﴿فَبَشِّرْ عِبَادِۙ۰۰ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ ﴾ ’’پس میرے بندوں کو خوش خبری سنا دو، جو بات کو سنتے ہیں‘‘ یہاں (القول) ہر قسم کی بات کو شامل ہے وہ بات کو سنتے ہیں تاکہ وہ امتیاز کر سکیں کہ کس بات کو ترجیح دی جائے اور کس بات سے اجتناب کیا جائے۔ یہ ان کا حزم و احتیاط اور عقل مندی ہے کہ وہ اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں۔ بہترین کلام علی الاطلاق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (e)کا کلام ہے جیسا کہ آگے چل کر اسی سورۂ مبارکہ میں فرمایا: ﴿اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّؔتَشَابِهًا ﴾ (الزمر: 39/23) ’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے ایک ایسی کتاب کی صورت میں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ نکتہ پنہاں ہے کہ جب ان ممدوح لوگوں کا یہ وصف بیان کیا گیا ہے کہ وہ بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس میں سے بہترین قول کی اتباع کرتے ہیں، تو گویا یہ کہا گیا ہے کہ آیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے سے بہترین کلام کی معرفت حاصل ہو تاکہ ہم بھی عقل مندوں کی صفات سے متصف ہوجائیں اور جو کوئی اس صفت سے متصف ہو تو ہمیں پتہ چل جائے کہ یہ عقل مندوں میں سے ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں! بہترین کلام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا: ﴿اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّؔتَشَابِهًا ﴾ (الزمر:39؍23) ’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے ایک ایسی کتاب کی صورت میں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہے۔‘‘ ﴿الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ هَدٰؔىهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’وہ لوگ جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں ، پھر اس کے بہترین پہلو کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت بخشی ہے‘‘ یعنی بہترین اخلاق و اعمال کی طرف ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ ﴾ ’’اور یہی لوگ عقل مند ہیں۔‘‘ یعنی پاک عقل کے مالک ہیں۔ یہ ان کی عقل مندی اور ان کا حزم و احتیاط ہے کہ انھوں نے قول حسن اور غیر حسن کو پہچان لیا اور پھر اس قول کو ترجیح دی جس کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی اور یہ عقل مندی کی علامت ہے، بلکہ عقل مندی کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور علامت نہیں ہے کیونکہ وہ شخص جو قول حسن اور غیر حسن میں امتیاز نہیں کر سکتا، ان لوگوں کے زمرے میں نہیں آتا جو عقل صحیح کے مالک ہیں یا وہ اچھی اور بری بات کے درمیان امتیاز تو کر سکتا ہے لیکن جب شہوتِ نفس عقل پر غالب آجاتی ہے اور عقل شہوت کی محض تابع ہو جاتی ہے تو وہ بہترین کلام کی تعظیم نہیں کرتا تب وہ ناقص العقل قرار پاتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 18 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتغافرغافر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید