الزمر

زمر

75 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 23

    ٱللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ ٱلْحَدِيثِ كِتَـٰبًا مُّتَشَـٰبِهًا مَّثَانِىَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍ

    اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے[1] ، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں[2] آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں[3]، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے ذریعہ جسے چاہے راه راست پر لگا دیتا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راه بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں.

    حواشی

    [1] أَحْسَنُ الْحَدِيثِ سے مراد قرآن مجید ہے، ملتی جلتی کا مطلب، اس کے سارے حصےحسن کلام، اعجازوبلاغت، صحت معانی وغیرہ خوبیوں میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یا یہ بھی سابقہ کتب آسمانی سے ملتا ہے یعنی ان کی مشابہ ہے۔ مثانی، جس میں قصص وواقعات اور مواعظ واحکام کو بار بار دہرایا گیا ہے۔ [2] کیونکہ وہ ان وعیدوں کو اور تخویف وتہدید کو سمجھتے ہیں جو نافرمانوں کے لئے اس میں ہے۔ [3] یعنی جب اللہ کی رحمت اور اس کے لطف وکرم کی امید ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے تو ان کے اندر سوز وگداز پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کے ذکر میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ حضرت قتادہ (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ اس میں اولیاء اللہ کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے خوف سے ان کے دل کانﭗ اٹھتے، ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں اور ان کے دلوں کو اللہ کے ذکر سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ وہ مدہوش اور حواس باختہ ہو جائیں اور عقل و ہوش باقی نہ رہے، کیونکہ یہ بدعتیوں کی صفت ہے اور اس میں شیطان کا دخل ہوتا ہے۔ (ابن کثیر) جیسے آج بھی بدعتیوں کی قوالی میں اس طرح کی شیطانی حرکتیں عام ہیں، جسے وہ وجد وحال یا سکر ومستی سے تعبیر کرتے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں، اہل ایمان کا معاملہ اس بارے میں کافروں سے بوجوہ مختلف ہے۔ ایک یہ کہ اہل ایمان کا سماع، قرآن کریم کی تلاوت ہے، جب کہ کفار کا سماع، بے حیا مغنیات کی آوازوں میں گانا بجانا، سننا ہے۔ (جیسے اہل بدعت کا سماع مشرکانہ غلو پر مبنی قوالیاں اور نعتیں ہیں) دوسرے، یہ کہ اہل ایمان قرآن سن کر ادب وخشیت سے رجا ومحبت سے اور علم وفہم سے رو پڑتے ہیں اور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں، جب کہ کفار شور کرتے اور کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں۔ تیسرے، اہل ایمان سماع قرآن کے وقت ادب وتواضع اختیار کرتے ہیں، جیسے صحابہ کرام کی عادت مبارکہ تھی، جس سے ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور ان کے دل اللہ کی طرف جھک جاتے تھے۔ (ابن کثیر)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 23 کی تفسیر

    [23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کے بارے میں، جسے اس نے نازل فرمایا خبر دیتا ہے کہ یہ کتاب علی الاطلاق ﴿اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ ﴾ ’’بہترین کلام ہے۔‘‘ پس بہتر کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام سے نازل کی گئی کتابوں میں بہترین کتاب یہ قرآن کریم ہے۔ جب قرآن کریم بہترین کتاب ہے تب معلوم ہوا کہ اس کے الفاظ فصیح ترین اور واضح ترین، اس کے معانی جلیل ترین ہیں کیونکہ یہ اپنے الفاظ اور معانی میں بہترین کلام ہے۔ اپنے حسن تالیف اور ہر لحاظ سے عدم اختلاف کے اعتبار سے اس کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں حتی کہ اگر کوئی اس میں غوروفکر کرے تو اسے اس میں ایسی مہارت، اس کے معانی میں ایسی گہرائی نظر آئے گی جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے اور اسے یقین ہوجاتا ہے کہ یہ (بے عیب) کلام حکمت اور علم والی ہستی کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہو سکتا۔ اس مقام پر ’’تشابہ‘‘ سے یہی مراد ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ﴾ (آل عمران:3؍7) ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی، اس میں محکم آیات بھی ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور بعض دوسری متشابہات ہیں۔‘‘ تو اس سے مراد وہ آیات کریمہ ہیں جو بہت سے لوگوں کے فہم سے پوشیدہ اور مشتبہ ہوتی ہیں۔ یہ اشتباہ اس وقت تک زائل نہیں ہوتا جب تک کہ ان کو آیات محکمات کی طرف نہ لوٹایا جائے۔ اس لیے فرمایا: ﴿مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ﴾ (آل عمران:3/7) ’’اس میں محکم آیات بھی ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور بعض دوسری متشابہات ہیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض آیات میں تشابہ قرار دیا گیا ہے اور یہاں تمام آیات کو متشابہکہا ہے، یعنی حسن میں مشابہ ہیں، کیونکہ ارشاد فرمایا: ﴿اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ ﴾ ’’نہایت اچھی باتیں‘‘ اس سے مراد تمام آیات اور سورتیں ہیں، جو ایک دوسری سے مشابہت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ﴿مَّؔثَانِیَ ﴾ ’’دہرائی جاتی ہیں۔‘‘ یعنی اس بہترین کلام میں قصص و احکام، وعد و وعید، اہل خیر کے اوصاف اور اہل شر کے اعمال کو بار بار دہرایا جاتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ اس کلام کا حسن و جلال ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ مخلوق اس کلام کے معانی کی محتاج ہے جو دلوں کو پاک اور اخلاق کی تکمیل کرتے ہیں، اس لیے اس نے ان معانی کو دلوں کے لیے وہی حیثیت دی ہے جو درختوں اور پودوں کے لیے پانی کی ہے۔ جس طرح درخت اور پودے عدم سیرابی کے باعث ناقص بلکہ بسااوقات تلف ہو جاتے ہیں اور پودوں کو جتنا زیادہ بار بار سیراب کیا جائے گا اتنے ہی وہ خوبصورت ہوں گے اور اتنا ہی زیادہ وہ پھل لائیں گے… اسی طرح دل بھی کلام اللہ کے معانی کے تکرار کے ہمیشہ محتاج رہتے ہیں۔ اگر تمام قرآن میں اس کے سامنے ایک ہی معنی بیان کیا جائے تو معنی اس کی گہرائی میں جاگزیں ہو گا نہ اس سے مطلوبہ نتائج ہی حاصل ہوں گے۔ بنابریں میں اپنی تفسیر میں، قرآن مجید کے اسلوب کی اقتدا میں، اسی مسلک کریم پر گامزن ہوں۔ اس لیے آپ کسی بھی مقام پر کوئی حوالہ نہیں پائیں گے، بلکہ آپ ہر مقام پر گزشتہ صفحات میں اس سے ملتے جلتے مقام کی تفسیر کی رعایت رکھے بغیر، اس کی مکمل تفسیر پائیں گے۔ اگرچہ بعض مقامات پر نسبتاً زیادہ بسط و شرح سے کام لیا گیا اور اس میں فوائد دیے گئے ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے اور اس کے معانی میں غوروفکر کرنے والے کے لیے بھی یہی مناسب ہے کہ وہ قرآن مجید کے تمام مقامات میں تدبر کو ترک نہ کرے کیونکہ اس سبب سے اسے خیرکثیر اور بہت زیادہ فائدہ حاصل ہو گا۔ چونکہ قرآن عظیم اس عظمت و جلال کے ساتھ ہدایت یافتہ اور عقل مند لوگوں کے دلوں پر بہت اثر کرتا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿تَ٘قْ٘شَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ﴾ ’’جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، اس (قرآن) سے ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔‘‘ کیونکہ اس کے اندر بے قرار کر دینے والی تخویف و ترہیب ہے ﴿ثُمَّ تَلِیْ٘نُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ ﴾ ’’ پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہوکر) اللہ کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں۔‘‘ یعنی امید اور ترغیب کے ذکر کے وقت۔ یہ ذکر کبھی تو ان کو بھلائی کے عمل کی ترغیب دیتا ہے اور کبھی برائی کے عمل سے ڈراتا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘یعنی ان کے اندر تاثیر قرآن کا اللہ تعالیٰ نے جو ذکر کیا ہے ﴿هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی ہدایت ہے‘‘ یعنی اس کے بندوں کے لیے اس کی طرف سے ہدایت ہے اور ان پر یہ اس کے جملہ فضل و احسان میں سے ہے۔ ﴿یَهْدِیْ بِهٖ﴾ اس تاثیر قرآن کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے ﴿مَنْ یَّشَآءُ ﴾ ’’جسے چاہتا ہے‘‘ اپنے بندوں میں سے۔ اس میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ﴿ذٰلِكَ ﴾ سے مراد قرآن ہو ، یعنی وہ قرآن جس کا وصف ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے ﴿هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی ہدایت ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے اس کے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں ﴿یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ﴾ ’’وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو اچھا مقصد رکھتے ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّ٘بَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰ٘مِ ﴾ (المائدۃ: 5؍16) ’’اللہ اس کتاب کے ذریعے سے ان لوگوں کو سلامتی کا راستہ دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں۔‘‘ ﴿وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی توفیق کے سوا کوئی راستہ نہیں جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہو، کتاب اللہ پر توجہ مرکوز کرنے کی توفیق بھی اسی سے ملتی ہے۔ پس اگر اللہ کی توفیق نصیب نہ ہو تو راہ راست پر چلنے کا کوئی طریقہ نہیں تب واضح گمراہی اور رسوا کن بدبختی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 23 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتغافرغافر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید