الزمر

زمر

75 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 31

    ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ عِندَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ

    پھر تم سب کے سب قیامت والے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی اور آپ کے مخالف بھی، سب موت سے ہم کنار ہوکر اس دنیا سے ہمارےپاس آخرت میں آئیں گے۔ دنیا میں تو توحید اور شرک کا فیصلہ تمہارے درمیان نہیں ہو سکا اور تم اس بارے میں جھگڑتے ہی رہے۔ لیکن یہاں میں اس کا فیصلہ کروں گا اور مخلص موحدین کو جنت میں اور مشرکین وجاحدین اور مکذبین کو جہنم میں داخل کروں گا۔ اس آیت سے بھی وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اثبات ہوتا ہے، جس طرح کہ سورۃ آل عمران کی آیت 144 سے بھی ہوتا ہے اور انہی آیات سے استدلال کرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) نے بھی لوگوں میں آپ ﹲ کی موت کا تحقق فرمایا تھا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو برزخ میں بالکل اسی طرح زندگی حاصل ہےجس طرح دنیا میں حاصل تھی، قرآن کی نصوص کے خلاف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی دیگر انسانوں ہی کی طرح موت طاری ہوئی، اسی لئے آپ کو دفن کیا گیا، قبر میں آپ کو برزخی زندگی تو یقیناً حاصل ہے، جس کی کیفیت کا ہمیں علم نہیں، لیکن دوبارہ قبر میں آپ کودنیوی زندگی عطا نہیں کی گئی۔ ﹲ۔صلیٰ اللہ علیہ و سلم

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 31 کی تفسیر

    [31] ﴿ثُمَّ اِنَّـكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ ﴾ یعنی قیامت کے روز ان امور کے بارے میں تم اپنے رب کے پاس جھگڑو گے جو تمھارے درمیان متنازع ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف پر مبنی حکم کے ذریعے سے تمھارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا ﴿اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوْهُ ﴾ (المجادلة: 58؍6) ’’جسے اللہ تعالیٰ نے شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اسے بھلا بیٹھے ہیں۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 31 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتغافرغافر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید