الزمر

زمر

75 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 37

    وَمَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن مُّضِلٍّ ۗ أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِى ٱنتِقَامٍ

    اور جسے وه ہدایت دے اسے کوئی گمراه کرنے واﻻ نہیں[1] کیا اللہ تعالیٰ غالب اور بدلہ لینے واﻻ نہیں ہے؟[2]

    حواشی

    [1] جو اس کو ہدایت سے نکال کرگمراہی کے گڑھے میں ڈال دے۔ یعنی ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے،جس کو چاہے گمراہ کردے اور جس کو چاہے ہدایت سے نوازے۔ [2] کیوں نہیں، یقیناً ہے۔ اس لیے کہ اگر یہ لوگ کفر وعناد سے باز نہ آئے تو یقناً وہ اپنے دوستوں کی جماعت میں ان سے انتقام لے گا اور انہیں عبرت ناک انجام سے دورچار کرے گا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 36 - 37 کی تفسیر

    [36، 37] ﴿اَلَ٘یْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ﴾ ’’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘‘ یعنی کیا یہ اللہ کا اپنے اس بندے پر جودوکرم اور اس کی عنایت نہیں جو اس کی عبودیت پر قائم ہے، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے۔ خاص طور پر وہ بندہ جو تمام مخلوق میں عبودیت کے کامل ترین مرتبے پر فائز ہے یعنی محمد مصطفیe۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور میں ان کے لیے کافی ہو گا اور جو کوئی آپ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے آپ کی مدافعت کرے گا۔﴿وَیُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ﴾ یعنی وہ آپ کو بتوں اور خود ساختہ معبودوں سے ڈراتے ہیں کہ آپ پر ان کی مار پڑے گی، یہ ان کی گمراہی ہے ﴿وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ۰۰ وَمَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ ﴾ ’’اور اللہ جسے گمراہی میں مبتلا کر دے توکوئی اسے راستہ نہیں دکھا سکتا اور جس کو اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے ہاتھ میں ہدایت اور گمراہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے جو نہیں چاہتا وہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا ﴿اَلَ٘یْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ﴾ ’’کیا اللہ غالب نہیں؟‘‘ یعنی وہ کامل قہر اور غلبے کا مالک ہے جس کے ذریعے سے وہ ہر چیز پر غالب ہے اسی غلبہ و قہر کی بنا پر وہ اپنے بندے کے لیے کافی ہے اور اس سے ان کی سازشوں اور مکروفریب کو دور کرتا ہے ﴿ذِی انْتِقَامٍ ﴾ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اس سے انتقام لیتا ہے۔ اس لیے ان تمام امور سے بچو جو اس کی ناراضی کے موجب ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 37 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتغافرغافر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید